منگنی
قرآنگودمیںرکھکررشتےکاوعدہلینےسےنکاحنہیںہوتا،یہصرفوعدۂنکاحہے
سوال:۔
ہمارے گاؤں میں ایک شادی شدہ مرد کے لئے اس کے گھر والوں نے کسی دُوسرے شخص سے رشتہ مانگا ہے، جو اس نے انکار کردیا، پھر انہوں نے کہا کہ اگر تم رشتہ دو گے تو پہلی بیوی کو طلاق دے دیں گے، کیونکہ اس سے ناچاقی ہے، وہ نہ مانا، لڑکے والوں نے قرآن مجید لے کر اس کی گود میں رکھ دیا اور کہا کہ تم رشتہ دو تو ہم اس لڑکی کی طلاق دے دیں گے۔ اس آدمی نے قرآن پاک کی وجہ سے رشتے کی ہامی بھرلی، جس پر یہ نادم ہے، دُوسری شادی کے لئے قانونی اجازت بھی نہیں لی گئی۔ مسئلہ اس صورت میں یہ درپیش ہے کہ کیا یہ آدمی رشتہ دینے کا پابند ہے اور اس لڑکی کو طلاق ہوگئی؟ اور کیا قرآن مجید کا ایسا استعمال شریعت میں جائز ہے؟ کیا صورت ہوگی؟ کیا وہ رشتہ دینے سے انکار کرسکتا ہے؟ کیونکہ اس نے قرآن کے ڈَر کے وجہ سے ہاں کردی تھی۔
جواب:۔
صرف کسی کی گود میں قرآن رکھ دینے سے قسم نہیں ہوجاتی۔(۱) بہرکیف! اگر آپ نے رشتہ دینے کی صرف ہامی بھرلی تھی تو یہ نکاح نہیں بلکہ وعدۂ نکاح ہے۔(۲) اور اگر آپ رشتہ نہیں دینا چاہتے تو اس میں صرف وعدہ خلافی ہوگی، اور اگر آپ نے قسم اُٹھاکر ہامی بھری تھی تو اب رشتہ نہ دینے کی صورت میں قسم کا کفارہ بھی آپ کو ادا کرنا ہوگا۔(۳) قرآنِ کریم کو ایسی باتوں کے لئے استعمال کرنا بُرا ہے۔ یہ آدمی رشتہ دینے کا پابند نہیں، اور اس لڑکی کو طلاق نہیں ہوئی۔(۴)
- (۱) لأن الیمین عبارۃ عن تحقیق ما قصدہ من البر فی المستقبل نفیًا أو إثباتًا۔ (البحر الرائق ج:۴ ص:۲۷۷)۔
- (۲) وینعقد أیضًا (إلٰی قولہ) ھل أعطیتنیھا ان المجلس للنکاح وان للوعد فوعد۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۲)۔
- (۳) قال تعالٰی: ﵟ لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡۚ وَٱحۡفَظُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡۚ ﵞ المائدة ٨٩۔
- (۴) إذا اضافہ (الطلاق) إلی الشرط وقع عقیب الشرط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۴۶۸، طبع بلوچستان)۔

