بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

منگنی‌کے‌وقت‌والدین‌کے‌ایجاب‌و‌قبول‌کرنے‌سے‌نکاح‌ہوجاتا‌ہے

سوال:۔

شادی سے پہلے منگنی کی جاتی ہے، منگنی میں دُولہا اور دُلہن کی غیرموجودگی میں نکاح پڑھ دیا جاتا ہے، رواج کے مطابق دُولہا اور دُلہن کے والدین مولوی صاحب اور گواہوں کے سامنے بیٹھ کر دُلہن کے والد صاحب اپنی بیٹی دُولہا کے والد صاحب کو اس کے بیٹے کے لئے زوجیت میں دے دیتے ہیں، اور یہ الفاظ تین بار ادا ہوتے ہیں اور دُولہا کے والد صاحب دُلہن کو اپنے بیٹے کے لئے تین بار قبول کرلیتے ہیں، کیا نکاح ہوگیا؟ اب شادی کے بعد کا نکاح لازمی ہے یا نہیں؟

جواب:۔

منگنی کے وقت ایجاب و قبول کے جو الفاظ سوال میں لکھے گئے ہیں، ان سے نکاح ہوجاتا ہے،(۱) دوبارہ نکاح اور ایجاب و قبول کی ضرورت نہیں۔

  1. (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول حتّٰی یتم حقیقۃ فی الوجود۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۱، طبع بیروت)۔ أیضًا: فإن استأذنھا ھو أی الولی۔۔۔ أو وکیلہ أو رسولہ أو زوّجھا ولیھا وأخبرھا رسولہ أو فضولی عدل فسکتت۔۔۔ فھو إذن ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۵۹)۔ أیضًا: یصح التوکیل بالنکاح۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۹۴)۔ أیضًا: رجل بعث أقوامًا لخطبۃ إمرأۃ إلٰی والدھا فقال الأب: زوجت وقیل عن الزوج واحد من القوم لَا یصح النکاح وقیل یصح النکاح وھو الصحیح وعلیہ الفتویٰ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۸، طبع بلوچستان)۔