بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

منگنی‌میں‌باقاعدہ‌ایجاب‌و‌قبول‌کرنے‌سے‌میاں‌بیوی‌بن‌جاتے‌ہیں

سوال:۔

ہمارے یہاں رسم ہے کہ منگنی کی رات دعوت ہوتی ہے اور مولوی کو لڑکے والے لاتے ہیں اور مجلس میں باقاعدہ ایجاب و قبول ہوتا ہے۔ اور بعد میں کچھ مدّت گزرنے کے بعد شادی کے وقت پھر ایجاب و قبول ہوتا ہے اور رُخصتی ہوتی ہے۔ کیا پہلے ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر شادی اور منگنی کے درمیان کوئی جھگڑا ہو تو بغیر طلاق کے تفریق ہوسکتی ہے یا نہیں؟

اگر منگنی والے ایجاب و قبول کے بعد دونوں میں سے کوئی فوت ہوگیا تو کیا ایک دُوسرے سے اپنا حقِ وراثت لے سکتے ہیں یا نہیں؟ ہمارے یہاں یہ بھی رسم اور رواج ہے کہ منگنی والے ایجاب و قبول کے بعد لڑکی کے والدین پھر دُوسری جگہ منگنی نہیں کرسکتے، لیکن یہ بات ہے کہ اگر لڑکا منگنی کے بعد اپنی منگیتر کے پاس آیا تو بہت لعن طعن کرتے ہیں۔

جواب:۔

اگر منگنی کی دعوت کے موقع پر باقاعدہ نکاح کا ایجاب و قبول کرایا جاتا ہے اور اس پر گواہ بھی مقرّر کئے جاتے ہیں تو یہ منگنی درحقیقت نکاح ہے، اور شادی کے معنی رُخصتی کے ہوں گے۔ اس لئے لڑکا اور لڑکی منگنی والے ایجاب و قبول کے بعد شرعاً میاں بیوی ہوں گے، اور ان پر میاں بیوی کے تمام اَحکام جاری ہوں گے،(۱) مثلاً: دونوں میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو ایک دُوسرے کے وارث ہوں گے، اور شوہر کے انتقال کی صورت میں بیوی پر ’’عدّتِ وفات‘‘ لازم ہوگی۔(۲) اور اگر منگنی کے موقع پر نکاح کا ایجاب و قبول نہیں ہوتا، صرف والدین سے وعدہ لیا جاتا ہے تو یہ نکاح نہیں، اس پر نکاح کے اَحکام جاری نہیں ہوں گے۔(۳)

  1. (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول حتّٰی یتم حقیقۃ فی الوجود (إلٰی قولہ) یسمی باعتبارہ عقدًا شرعًا ویستعقب الأحکام۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۱، طبع بیروت)۔
  2. (۲) وأما أحکامہ (النکاح) فحل استمتاع کل منھما بالآخر علی الوجہ الماذون فیہ شرعًا کذا فی فتح القدیر وملک الحبس وھو صیرورتھا ممنوعۃ عن الخروج والبروز ووجوب المھر والنفقۃ والکسوۃ علیہ وحرمۃ المصاھرۃ والْإرث من الجانبین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷۰، کتاب النکاح، الباب الأوّل، طبع بلوچستان)
  3. (۳) لو قال: ھل أعطیتنیھا ان کان المجلس للوعد فوعد وإن کان للعقد فالنکاح ۔۔۔إلخ۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۲، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔