بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

نکاح‌سے‌پہلے‌اگر‌منگیتر‌سے‌جنسی‌تعلق‌قائم‌کرلیا‌تو‌اس‌کا‌کیا‌کفارہ‌ہے؟

سوال:۔

میری شادی دس سال پہلے پاکستان میں ہوئی تھی، اور میری بیوی لندن سے نئی نئی گئی تھی، اور ہم دونوں کے گھر بھی نزدیک تھے، اور شادی سے پہلے ایک دُوسرے کو ملنے اور باتیں وغیرہ کرنے کا ٹائم مل جاتا تھا، اور شادی سے پہلے میری عمر تقریباً بیس بائیس سال کی تھی، اور میری بیوی میرے سے چار سال چھوٹی تھی۔ اور آپ کو تو معلوم ہونا چاہئے کہ شادی سے پہلے آدمی تھوڑا سا نادان ہوتا ہے، اور اس نادانی کی وجہ سے شادی سے پہلے یعنی دو ماہ پہلے میں اپنی بیوی سے ملا اور باتوں باتوں میں گناہ کربیٹھا۔ جیسا کہ ہم دونوں کو علم تھا کہ ہم بہت جلد شادی کرنے والے ہیں تو کچھ فرق نہیں پڑتا، تو وہ گناہ کرتے وقت کچھ خیال نہ آیا کہ اس کا کچھ اثر پڑے گا۔ اور بعد میں شادی ہوگئی اور شادی کے سات ماہ بعد میرے گھر بیٹا ہوا، مگر پیدا ہونے سے پہلے وہ مرچکا تھا، یعنی مردہ حالت میں پیدا ہوا۔ اور میرے اس گناہ کرنے سے میری بیوی حاملہ ہوگئی تھی اور اس لئے سات ماہ بعد بچہ ہوا۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ آیا کہ اب ہمارا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اب میرے گھر تین بچے ہیں اور اَب میں پاکستان سے آیا ہوں تو وہاں پر تو کوئی اِحساس نہیں ہوا، مگر یہاں پر آکر آپ کے مسائل وغیرہ پڑھ کر میرا دِل کانپ گیا ہے، اور سوچتا ہوں کہ شاید ہمارا نکاح نہیں ہوا، اور اب جبکہ تین بچے بھی ہوچکے ہیں تو میں کیا کروں؟ اگر آپ اچھی طرح سے قرآن وحدیث کے حوالے سے مجھے کوئی جواب دیں تو میں آپ کا بے حد مشکور ہوں گا۔ اگر کوئی کفارہ ادا کرنا ہے تب بھی میں تیار ہوں، اور جو بھی صورت ہے مجھے برائے مہربانی جلدی جواب دیں، کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے، اور اَب مزید دیر نہیں کرنا چاہتا، پتا نہیں کہ اس گناہ کی مجھے معافی بھی ملے گی یا نہیں؟ دِن رات بہت پریشان رہتا ہوں، سکون نہیں رہا۔

جواب:۔

آپ نے نکاح سے قبل جو گناہ کیا، وہ بہت بڑا گناہ تھا، اس کے لئے آپ اور آپ کی اہلیہ اللہ تعالیٰ سے خوب توبہ کریں، بار بار معافی مانگیں، اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے۔(۱) باقی اس کا آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، آپ کے نکاح کے بعد کی تمام اولاد آپ کی جائز اولاد ہے،(۲) ان کی بہترین تربیت کریں اور ذہن سے وساوس نکال دیں۔ گناہ کے کفارے کے لئے کچھ صدقہ کردیں۔

  1. (۱) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ ﵞ التحريم ٨۔ ولیس شیء یکون سببًا لغفران جمیع الذنوب إلّا التوبۃ قال تعالٰی: ﵟ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ ﵞ۔۔۔إلخ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۳۶۷، طبع مکتبہ سلفیہ لَاھور)۔
  2. (۲) وصح نکاح حبلٰی من زنی لَا حبلٰی من غیرہ أی الزانی لثبوت نسبہ۔۔۔ لو نکحھا الزانی حل لہ وطؤھا إتفاقًا والولد لہ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۴۹، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔