منگنی
جسعورتسےنکاحکرناہو،اسکوایکنظردیکھنےکےعلاوہتعلقاتکیاجازتنہیں
سوال:۔
شادی سے قبل ایک دُوسرے کو چاہنے والے لڑکی اور لڑکے کے تعلقات آپس میں کیسے ہونے چاہئیں؟ یعنی ایک دُوسرے سے میل جول یا بات چیت کرسکتے ہیں، لیکن کوئی غیراخلاقی حرکت کے مرتکب نہ ہونے پائیں۔ ایسی صورت میں ان کا ملن کیا شرعی حیثیت رکھتا ہے؟
جواب:۔
جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کو ایک نظر دیکھ لینا جائز ہے،(۱) خواہ خود دیکھ لے یا کسی معتمد عورت کے ذریعہ اطمینان کرلے، اس سے زیادہ ’’تعلقات‘‘ کی نکاح سے قبل اجازت نہیں، نہ میل جول کی اجازت ہے نہ بات چیت کی، اور نہ خلوَت و تنہائی کی۔(۲) نکاح سے قبل ان کا ملنا جلنا بجائے خود ’’غیراخلاقی حرکت‘‘ ہے۔
- (۱) لو اکتفی بالنظر إلیھا بمرۃ حرم الزائد لأنہ ابیح للضرورۃ فیتقید بھا۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۷۰، طبع سعید کراچی)۔
- (۲) الخلوۃ بالأجنبیۃ مکروھۃ وإن کانت معھا اُخریٰ کراھۃ تحریم اھـ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۶۸)۔ أیضًا: عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا یبیتن رجل عند إمرأۃ ثیب إلّا أن یکون ناکحھا أو ذا محرم۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۸)۔ وعن عقبۃ بن عامر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إیاکم والدخول علی النساء (أی غیر المحرمات علٰی طریق التخلیۃ أو علٰی وجہ التکشف ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح ج:۳ ص:۴۰۹، کتاب النکاح، باب النظر، طبع بمبئی)۔

