منگنی
نکاحسےپہلےمنگیترسےملناجائزنہیں
سوال:۔
ایک صاحب فرما رہے تھے کہ: ’’منگیتر سے ملاقات کرنا، اس سے ٹیلیفون وغیرہ پر بات کرنا اور اس کے ساتھ گھومنا پھرنا صحیح نہیں۔‘‘ میں نے ان صاحب سے عرض کیا کہ: ’’یہ تو ہمارے معاشرے میں عام ہے، اس کو تو کوئی بھی بُرا نہیں سمجھتا۔‘‘ پھر میرے جواب کا وہ صاحب واضح جواب نہ دے سکے، جس کی وجہ سے میں اُلجھن میں پڑگیا کہ کیا واقعی یہ صحیح نہیں ہے؟
جواب:۔
نکاح سے پہلے منگیتر اجنبی ہے، لہٰذا نکاح سے پہلے منگیتر کا حکم بھی وہی ہوگا جو غیرمرد کا ہے کہ عورت کا اس کے ساتھ اِختلاط جائز نہیں۔(۱) اور آپ کا یہ کہنا کہ: ’’یہ تو ہمارے معاشرے میں عام ہے، کوئی بُرا نہیں سمجھتا‘‘ اوّل تو مُسلَّم نہیں، کیونکہ شریف معاشروں میں اس کو نہایت بُرا سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں معاشرے میں کسی چیز کا رِواج ہوجانا کوئی دلیل نہیں، ایسا غلط رِواج جو شریعت کے خلاف ہو، خود لائقِ اصلاح ہے۔(۲) ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکیاں غیرلڑکوں کے ساتھ آزادانہ گھومتی پھرتی ہیں، کیا اس کو جائز کہا جائے گا؟
- (۱) وعن عقبۃ بن عامر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: (إیاکم والدخول علی النساء) أی غیر المحرمات علٰی طریق التخلیۃ أو علٰی وجہ التکشف ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح ج:۳ ص:۴۰۹، کتاب النکاح، باب النظر، طبع بمبئی)۔
- (۲) عن أبی سعید الخدری عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من راٰی منکم منکرًا فلیغیّرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذٰلک أضعف الْإیمان۔ (مشکوٰۃ ص:۴۳۶، باب الأمر بالمعروف، الفصل الأوّل)۔

