بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

منگنی‌توڑنا‌وعدہ‌خلافی‌ہے،‌منگنی‌سے‌نکاح‌نہیں‌ہوتا

سوال:۔

ایک شخص نے اپنے رشتہ دار سے کہا کہ میں آپ کی لڑکی کا رشتہ اپنے لڑکے کے لئے چاہتا ہوں، اس پر ان صاحب نے رضامندی کا اظہار کیا اور بروز جمعہ کو منگنی کی رسم ادا کرنے کے لئے طے پایا۔ لڑکی کے والد نے لڑکے کے باپ سے مخاطب ہوکر کہا: میں نے اپنی فلاں لڑکی تمہارے بیٹے کو دی۔ اس نے کہا: میں نے یہ لڑکی اپنے فلاں بیٹے کے لئے قبول کی۔ تقریباً ایک ماہ دس دن گزرنے کے بعد لڑکی کی والدہ لڑکے کے گھر گئی اور ان سے معذرت کرنے لگی کہ میرے رشتہ دار ناراض ہوتے ہیں، لہٰذا یہ رشتہ ہم لوگ منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن لڑکے والے منسوخ کرنا نہیں چاہتے، کیا یہ رشتہ لڑکے کی مرضی کے خلاف منسوخ ہوسکتا ہے؟

جواب:۔

منگنی رشتہ لینے دینے کے وعدے کا نام ہے،(۱) مگر منگنی سے نکاح نہیں ہوتا، اس لئے منگنی توڑنا وعدہ خلافی ہے اور بغیر کسی معقول اور صحیح عذر کے وعدہ خلافی گناہ ہے،(۲) مگر چونکہ عقدِ نکاح نہیں ہوا، اس لئے لڑکے سے طلاق لینے کی ضرورت نہیں۔

  1. (۱) حاشیہ گذشتہ: وفی الدر المختار:(ج:۳، ص:۱۲، طبع سعید کراچی) کتاب النکاح، وان للوعد ۔۔۔الخ
  2. (۲) حاشیہ گذشتہ: ﵟ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ ــ الخ