بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

کیا‌بغیر‌عذرِ‌شرعی‌منگنی‌کو‌توڑنا‌جائز‌ہے؟

سوال:۔

رشتہ یا منگنی طے ہوجانے کے بعد کسی شرعی عذر کے بغیر منسوخ یا توڑ دینا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

منگنی، وعدۂ نکاح کا نام ہے،(۱) اور بغیر عذر کے وعدہ پورا نہ کرنا گناہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منافق کی علامتوں میں شمار فرمایا۔(۲) ہاں! اگر اس وعدے کے پورا کرنے میں کسی معقول مضرّت کے لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو شاید اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہ فرمائیں۔(۳)

  1. (۱) قال فی شرح الطحاوی: لو قال أھل أعطیتنیھا ان کان المجلس للوعد فوعد وإن کان للعقد فنکاح اھـ۔ (ردالمحتار ج:۳ ص:۱۱، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (بخاری ج:۱ ص:۱۰ کتاب الْإیمان، طبع نور محمد کراچی)۔
  3. (۳) قال العلاَّمۃ العینی: (إذا وعد أخلف) نبہ علٰی فساد النیۃ لأن خلف الوعد لَا یقدح إلّا إذا عزم علیہ مقارنًا بوعدہ اما إذا کان عازمًا ثم عرض لہ مانع أو بدا لہ رأی فھٰذا لم توجد فیہ صفۃ النفاق ویشھد لذٰلک ما رواہ الطبرانی بإسناد لَا بأس بہ فی حدیث طویل من حدیث سلمان رضی اللہ عنہ۔ (عمدۃ القاری ج:۱ ص:۲۲۱، طبع بیروت)۔