بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

نابالغ‌کی‌منگنی

سوال:۔

ایک لڑکی کی منگنی پانچ سال کی عمر میں اس کے چچازاد کے ساتھ کردی گئی، بعد میں لڑکے نے دُوسری جگہ منگنی کرلی، لڑکی کی عمر اس وقت بارہ سال ہے اور وہ نابالغ ہے، کیا کرنا چاہئے؟

جواب:۔

لڑکی کے بالغ ہونے تک کوئی کارروائی نہ کی جائے، لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد لڑکی کی رضامندی معلوم کی جائے، اور اس کی رضامندی کے مطابق رشتہ طے کیا جائے۔(۱) منگنی ایک وعدہ ہے، چونکہ لڑکے نے دُوسری جگہ منگنی کرلی ہے، اس لئے یہ منگنی ختم سمجھی جائے، واللہ اعلم!

  1. (۱) روی عن ابن عباس أن جاریۃ بکرًا أتت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فذکرت أن أباھا زوجھا وھی کارھۃ فخیرھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ رواہ الْإمام أحمد ورجالہ ثقات۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۱ ص:۶۷ کتاب النکاح، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔ وفی البحر ج:۳ ص:۱۲۱ کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء: والسُّنّۃ أن یستأمر البکر ولیھا قبل النکاح۔۔۔ وإن زوجھا بغیر إستئمار فقد أخطأ السُّنَّۃ وتوقف علٰی رضاھا، انتھی۔ وھو محمل النھی فی حدیث مسلم: لَا تنکح الأیم حتّٰی تستأمر ولَا تنکح البکر حتّٰی تستأذن ۔۔۔إلخ۔