بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

عذر‌کی‌وجہ‌سے‌منگنی‌توڑنا

سوال:۔

کسی لڑکی کے والد اور والدہ اپنی لڑکی کی منگنی کسی وجہ سے ختم کرنا چاہیں تو کیا وہ شرعاً اس کا حق رکھتے ہیں؟ کیونکہ والدین نے منگنی تو سوچ بچار کے بعد کی تھی، لیکن اب بوجہ مجبوری کے وہاں اِرادہ نہیں ہے۔

جواب:۔

’’منگنی‘‘ رشتے کے وعدے کا نام ہے،(۱) وعدہ کرکے مکر جانا، اگر بغیر کسی شدید مجبوری کے ہو تو نہایت بُری بات ہے، اور اگر کسی عذر کی وجہ سے ہو تو جائز ہے، اس لئے اگر وہاں رشتہ کرنا کسی وجہ سے مناسب نہ ہو تو ان کو عذر کردینا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) وفی الدر المختار (ج:۳ ص:۱۲، طبع سعید کراچی) کتاب النکاح: وإن للوعدِ فوعدٌ۔ وفی الشامیۃ (ص:۱۱) لو قال: ھل أعطیتنیھا، فقال: أعطیت، إن کان المجلس للوعد فوعدٌ، وإن کان للعقد فنکاح۔ أیضًا: کفایت المفتی ج:۵ ص:۴۸ تا ۵۱، طبع دارالْإشاعت کراچی، أیضًا: البحر الرائق ج:۳ ص:۱۴۷ طبع رشدیہ۔
  2. (۲) ﵟ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا ٣٤ ﵞ الإسراء ٣٤۔ عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۰، کتاب الْإیمان، باب علامۃ المنافق، طبع قدیمی کتب خانہ، مشکٰوۃ ج:۱ ص:۱۷ باب الکبائر وعلامات النفاق، طبع قدیمی کراچی)۔ الخلف فی الوعد حرام۔۔۔ إذا وعد الرجل أخاہ ومن نیتہ أن یفی لم یف، فلا إثم علیہ، وقیل: علیہ فیہ بحث فإن أمرﵟ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ ﵞمطلق فیحمل عدم الْإثم فی الحدیث علٰی ما إذا منع مانع من الوفاء۔ (شرح الأشباہ والنظائر ج:۳ ص:۲۳۶، کتاب الحظر والْإباحۃ، طبع إدارۃ القرآن)۔