بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

بھائی‌کہنے‌والی‌لڑکی‌سے‌نکاح‌جائز‌ہے،‌اِظہارِ‌محبت‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میرا ایک دوست ہے، جس کو ایک لڑکی سے محبت ہوگئی، مگر اَفسوس کی بات یہ ہے کہ اس نے ابھی تک ان سے اِظہارِ محبت کیا ہی نہیں، اور لڑکی کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ ایک دن اس لڑکی نے میرے دوست سے ایک چیز طلب کی، جب انہوں نے اس کو وہ چیز دِی تو لڑکی نے اپنی سہیلیوں کو میرے دوست کے سامنے اس کا نام لے کر کہا کہ کتنا اچھا بھائی ہے۔

اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھے سارا قصہ سنایا اور کہنے لگا کہ: ’’کاش! میں اس کو پہلے ہی بتادیتا‘‘ میں نے کہا فکر نہیں کرو، عالموں سے مشورہ کرلیتے ہیں اور تمہارا مسئلہ ضرور حل ہوجائے گا۔ میں اپنے دوست کی مدد کے لئے آپ کے پاس یہ خط لکھ کر آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب اس کا لڑکی سے اپنی محبت کا اِظہار کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

۲:۔ان دونوں کا ’’نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب:۔

نامحرَم لڑکی سے اِظہارِ محبت حرام ہے۔(۱)

۲:۔ شرعی قاعدے سے کیا جائے تو نکاح جائز ہے۔

اگر یہ لڑکا اس لڑکی کو چاہتا ہے تو اس سے اِظہارِ محبت کرنے کے بجائے اس کے گھر رشتے کا پیغام بھجوائے، اگر اس کے گھر والے مان جائیں تو ٹھیک، ورنہ ایسی محبت پر لعنت بھیجے۔

  1. (۱) عن ابن بریدۃ عن أبیہ رفعہ قال: یا علی! لَا تتبع النظرۃ النظرۃ فإن لک الاُولٰی ولیست لک الآخرۃ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۰۱، طبع دہلی)۔ جب نامحرَم عورت کو قصداً دیکھنا جائز نہیں تو اِظہارِ محبت کہاں جائز ہوگا؟ أیضًا: عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما ترکت بعدی فی الناس فتنۃ أضرّ علی الرجال من النساء۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۰۲، طبع قدیمی)۔