شادیکونکرےاورکسسے؟
ڈاکٹروںکایہکہناکہقریبیرشتہداروںکیآپسمیںشادیسےبچےذہنیمعذورپیداہوتےہیں
سوال:۔
ہمارے ملک اور معاشرے میں یہ رِواج رہا ہے کہ شادی بیاہوں کے سلسلے میں اپنے قریب ترین رشتہ داروں، یعنی خالہ، ماموں، چاچا، تایا، پھوپھی کے گھرانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خاندان کے بزرگ اِکٹھے ہوتے ہیں اور اپنے پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کے لئے ان رشتہ کے گھروں سے لڑکے لڑکیوں کو منتخب کرکے ان کی نشاندہی کردیتے ہیں، اور ان پر عمل درآمد والدین کے لئے بھی خوشی کا باعث ہوتا ہے کہ یہ ان کے خاندان کے سربراہوں کا فیصلہ ہے۔ ایسے فیصلے اکثر حالات میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ اوّل: تو یہ کہ آپس کے رشتہ داروں کے گھروں کا ماحول یکساں ہوتا ہے اور بیاہ کر جانے والی لڑکیاں سسرال میں جاکر اجنبیت محسوس نہیں کرتیں۔ دوم: یہ کہ لڑکیوں کے والدین کو اپنی لڑکیوں کے رشتوں کے لئے اِنتظار نہیں کرنا پڑتا اور گھر بیٹھے ان کی یہ مشکل حل ہوجاتی ہے۔ لیکن اب نیا شوشہ یہ چھوڑا جارہا ہے کہ نزدیکی رشتے کی شادیوں کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ ’’ایب نارمل‘‘ یا خدانخواستہ ذہنی اور جسمانی معذور ہوتے ہیں۔ چنانچہ اب یہ اندیشہ ہائے دراز کالج اور یونیورسٹی کی طالبات کو متأثر کر رہا ہے اور چند لڑکیوں نے اس مفروضے سے خوف زدہ ہوکر طے شدہ شادیوں سے بھی اِنکار کردیا ہے۔
جواب:۔
اس مفروضے سے خوف زدہ ہوکر لڑکیوں کا ان شادیوں سے اِنکار کردینا، حماقت ہے۔ اس لئے کہ ایسے رشتے صدیوں سے (بلکہ شاید ماقبل تاریخ سے) ہوتے چلے آئے ہیں اور کبھی کوئی غیرمعمولی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس میرے علم میں بہت سی مثالیں ہیں کہ بچوں کی شادیاں باہر کی گئیں اور جسمانی ونفسیاتی مسائل اُبھر آئے۔ دراصل جدید تعلیم وتہذیب نے ہم سب کو ’’ذہنی مریض‘‘ بنادیا ہے، صدیوں کے تجربات محض توہمات کی بنا پر جھٹلائے جارہے ہیں۔ الغرض شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔

