شادیکونکرےاورکسسے؟
مرنےکےبعدنکاحکیحیثیت،نیزجنتمیںبھیدُنیاکیبیویملےگی؟
سوال:۔
کیا مرنے کے بعد شوہر اور بیوی کا رِشتہ قائم رہتا ہے؟ اور اسی شرعی رِشتے کے باعث اگر دونوں یومِ قیامت بخشے گئے تو ایک ساتھ جنت میں بحیثیت میاں بیوی ساتھ رہیں گے؟ میرے خسر کہتے ہیں کہ نکاح مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے۔
جواب:۔
اِمام قرطبیؒ ’’التذکرۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’جو مسلمان عورت کسی مسلمان مرد کے عقد میں رہی، وہ جنت میں اسی کی بیوی ہوگی۔ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ مارا، بیٹی نے باپ سے شکایت کی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹی! صبر کر، کیونکہ زبیر نیک آدمی ہیں، مجھے توقع ہے کہ جنت میں بھی تم دونوں میاں بیوی رہوگے۔
اگر عورت نے شوہر کی وفات کے بعد دُوسرا عقد کرلیا تو ایک قول یہ ہے کہ وہ جنت میں آخری شوہر کے پاس ہوگی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا تھا کہ اگر تو یہ چاہتی ہے کہ جنت میں بھی میری بیوی رہے (بشرطیکہ اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں جمع فرمادیں) تو میرے بعد اور شادی نہ کرنا، کیونکہ عورت جنت میں آخری شوہر کے پاس ہوگی۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے اِنتقال کے بعد ان کی بیوہ اُمّ الدردا رضی اللہ عنہا کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھجوایا، انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے ابوالدرداء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل کیا تھا کہ ’’عورت جنت میں آخری شوہر کے پاس ہوگی‘‘ اور ابوالدرداء نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر تو جنت میں میری بیوی رہنا چاہتی ہے تو میرے بعد اور شادی نہ کرنا۔
حضرت اُمّ المؤمنین، اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا کہ یارسول اللہ! دُنیا میں ایک عورت کے یکے بعد دیگرے دو شوہر تھے، مرنے کے بعد وہ سب جنت میں جمع ہوگئے، اب یہ عورت کس شوہر کے پاس ہوگی؟ فرمایا: اُمِّ حبیبہ! دونوں میں سے جو زیادہ خوش خلق ہوگا، اس کے پاس ہوگی۔ خوش خلقی دُنیا وآخرت دونوں کی خیر وبرکت کو سمیٹ لے گی۔
اور ایک قول یہ ہے کہ اگر دُنیا میں کسی عورت کے کئی شوہر رہے ہوں تو اس کو اِختیار دِیا جائے گا کہ ان میں سے جس کو چاہے پسند کرلے‘‘ (تذکرہ ص:۵۶۰، ۵۶۱)۔(۱)
اِمام قرطبیؒ کی اس تصریح سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد اگرچہ دُنیوی اَحکام کے اِعتبار سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، لیکن اگر میاںبیوی دونوں جنتی ہوں تو اِن شاء اللہ جنت میں میاںبیوی کی حیثیت سے رہیں گے۔ اور جس خاتون کو ایک سے زیادہ شوہروں کے پاس رہنے کا اِتفاق ہوا، وہ یا تو آخری شوہر کے پاس ہوگی، یا ان میں جو سب سے زیادہ خوش اخلاق ہوگا اس کے پاس ہوگی، یا اسے اِختیار دیا جائے گا۔
یہ تمام تفصیل تو عام مسلمانوں کے بارے میں ہے، لیکن اس معاملے میں آنحضرت سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پاکباز اور مقدس خواتین سے نکاح فرمایا، اور وہ مدّت العمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں رہیں، ان کا نکاح وصالِ نبوی سے ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ دُنیا وآخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں، اس لئے حضراتِ ازواجِ مطہرات اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنہنّ دُنیا کی طرح جنت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم دُنیا وآخرت میں میری بیوی ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بخدا میں اس پر راضی ہوں۔ فرمایا: ’’پس تم دُنیا وآخرت میں میری بیوی ہو‘‘ (مستدرک حاکم ج:۴ ص:۱۰، صحیح ابنِ حبان ج:۱۰ ص:۱۱۱، فتح الباری ج:۷ ص:۱۰۷، کنزالعمال ج:۱۲ ص:۱۳۵)۔ (۲)
ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’عائشہ جنت میں میری بیوی ہے‘‘ (طبقات ابنِ سعد ج:۸ ص:۶۶)۔(۳)
ولقد بلغنی أن الرجل إذا ابتکر بالمرأۃ تزوجھا فی الجنۃ۔ قال أبوبکر بن العربی: ھٰذا حدیث غریب ذکرہ فی أحکام القرآن لہ، فإن کانت المرأۃ ذات أزواج فقیل: إن من مات عنھا من الأزواج أخراھن لہ۔ قال حذیفۃ لِامرأتہ: إن سرّک أن تکونی زوجتی فی الجنۃ إن جعلنا اللہ فیھا لَا تتزوجی من بعدی، فإن المرأۃ لآخر أزواجھا فی الدنیا۔
وخطب معاویۃ بن أبی سفیان أم الدرداء فأبت وقالت: سمعت أبا الدرداء یحدث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: (المرأۃ لآخر أزواجھا فی الجنّۃ، وقال لی: إن أردت أن تکونی زوجتی فی الجنۃ فلا تتزوجی من بعدی)۔
وذکر أبوبکر النجاد قال: حدثنا جعفر بن محمد بن شاکر، حدثنا عبید بن إسحاق العطار، حدثنا سنان بن ھارون، عن حمید، عن أنس أن اُمّ حبیبۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالت: یا رسول اللہ! المرأۃ یکون لھا زوجان فی الدنیا، ثم یموتون ویجتمعون فی الجنۃ، لأیھما تکون، للأوّل أو للآخر؟ قال: (لأحسنھما خلقًا کان معھا یا اُمّ حبیبۃ!) ذھب حسن الخلق بخیر الدنیا والآخرۃ وقیل: انھا تخیر إذا کانت ذات أزواج۔ (التذکرۃ للقرطبی ص:۵۶۰، ۵۶۱، باب إذا ابتکر الرجل إمرأۃ فی الدنیا کانت زوجتہ فی الآخرۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
- (۱) ابن وھب عن مالک أن أسماء بنت أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنھما امرأۃ الزبیر بن العوام کانت تخرج علیہ حتّٰی عوتب فی ذالک قال: وغضب علیھا وعلی ضرتھا فقد شعر واحدۃ بالأخری ثم ضربھا ضربًا شدیدًا، وکانت الضرۃ أحسن اتقاء وکانت أسماء لَا تتقی، فکان الضرب بھا أکثر فشکت إلٰی أبیھا أبی بکر فقال لھا: أی بنیۃ! اصبری فإن الزبیر رجل صالح ولعلہ أن یکون زوجک فی الجنّۃ۔
- (۲) حدثتنا عائشۃ رضی اللہ عنھا أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر فاطمۃ رضی اللہ عنھا قالت: فتکلمت أنا فقال: أما ترضین أن تکونی زوجتی فی الدنیا والآخرۃ؟ قلت: بلٰی واللہ! قال: فأنت زوجتی فی الدنیا والآخرۃ۔ (المستدرک للحاکم ج:۴ ص:۱۰، فضائل عائشۃ عن لسان ابن عباس، طبع دار الفکر بیروت، أیضًا: صحیح ابن حبان ج:۱۰ ص:۱۱۱، طبع بیروت، فتح الباری ج:۷ ص:۱۰۷، طبع بیروت، کنز العمال ج:۱۲ ص:۱۳۵، طبع بیروت)۔
- (۳) عن مسلم البطین قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عائشۃ زوجتی فی الجنّۃ۔ (طبقات ابن سعد ج:۸ ص:۶۶، بحث عائشۃ، طبع دار صادر، بیروت)۔

