بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

مال‌ودولت‌کے‌لئے‌شادی‌کرنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

میرے والدین گزشتہ دو سالوں میں اِنتقال کرچکے ہیں، ہم چار بہن بھائی ہیں، دونوں بہنوں کی شادی ہوچکی ہے، والدین نے کوئی زیادہ جائیداد نہیں چھوڑی تھی، میں اور بڑا بھائی غیرشادی شدہ ہیں، میرے بھائی سائیکل پر پلاسٹک کی تھیلیاں فروخت کرتے ہیں، میں بے روزگار ہوں، یہ تمام میرا مختصر سا تعارف تھا۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں اکثر اَخبار میں ضرورتِ رشتہ کے اِشتہارات پڑھتا ہوں، ان اِشتہارات میں اکثر ایسے اِشتہارات آتے ہیں کہ لڑکی جو کہ معمولی نقص کا شکار ہے اتنی جائیداد کے ساتھ رشتہ مطلوب ہے، یا یتیم لڑکی بیس لاکھ کی واحد وارث کے لئے رشتہ چاہئے، پہلی بات کیا یہ جائز ہے؟

۱:۔ اگر میں ایسی لڑکی سے شادی کرلوں اور میرے دِل میں یہ بات ہو کہ روپیہ پیسہ ملے گا، جائز ہے یا نہیں؟

۲:۔ اگر میں اس نیت سے لڑکی سے شادی کرلوں کہ میں جو کہ ایک غریب آدمی ہوں، مالی مدد بھی ہوجائے گی اور ساتھ ہی ساتھ شادی بھی ہوجائے گی، جائز ہے یا نہیں؟

۳:۔ اگر میں اس نیت سے شادی کروں کہ وقتی طور پر مدد بطورِ قرض لیتا ہوں اور آہستہ آہستہ واپس کردوں گا، جائز ہے یا نہیں؟

اصل یہ ہے کہ میں نمبر۳ شرط پر شادی کرنا چاہتا ہوں، آپ مجھے بتادیں کہ کیا میرا نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ اور باقی صورتوں کی بھی وضاحت فرمادیں۔

جواب:۔

نکاح تو آپ کا جائز ہوگا، اور اس پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن ایسے اِشتہارات پر بعض اوقات بڑا دھوکا ہوتا ہے، بس یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ آپ کوئی ایسا قدم نہ اُٹھائیں کہ پھر ساری عمر پشیمانی ہو۔