شادیکونکرےاورکسسے؟
’’خداکیقسمشادینہیںکروںگا‘‘کہہدیاتواَبکیاکیاجائے؟
سوال:۔
میرے بڑے بھائی کی منگنی میری خالہ زاد بہن سے آٹھ سال سے طے ہے، پچھلے دِنوں خاندانی رنجش کی بنا پر بڑے بھائی نے غصّے میں آکر یہ کہہ دیا کہ: ’’خدا کی قسم! قرآن مجید کی قسم! میں یہاں شادی نہیں کروں گا۔‘‘ اب چونکہ خاندانی رنجش دُور ہوگئی ہے، اور بڑے بھائی کی شادی بھی عنقریب ہونے والی ہے، پوچھنا یہ چاہوں گا کہ بھائی نے چونکہ دو قسمیں کھالی تھیں، لہٰذا قرآن وسنت کی روشنی میں ہمیں شادی سے قبل اس کا کیا ’’کفارہ‘‘ ادا کرنا پڑے گا؟
جواب:۔
قسم توڑنے کا کفارہ قسم توڑنے کے بعد ہوتا ہے، پہلے نہیں۔ آپ کے بھائی نے جہاں شادی نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اگر وہاں شادی کرلیں گے تو قسم ٹوٹ جائے گی، اس شادی کے بعد قسم توڑنے کا کفارہ ادا کریں۔(۱)
- (۱) والمنعقدۃ ما یحلف علٰی أمر فی المستقبل أن یفعلہ أو لَا یفعلہ، وإذا حنث فی ذٰلک لزمتہ الکفَّارۃ لقولہ تعالٰی:ﵟ لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَۖ ﵞ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۴۷۸، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔

