بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

عورت‌کا‌بیماری‌کی‌بنا‌پر‌شادی‌نہ‌کرنا‌گناہ‌تو‌نہیں؟

سوال:۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میری دوست شادی کرنا نہیں چاہتی، وہ قرآن شریف پڑھتی ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے، وہ بچپن سے بیمار رہتی ہے، تھوڑے دِن ٹھیک رہتی ہے، پھر دوبارہ بیمار ہوجاتی ہے، وہ کہہ دیتی ہے کہ اس کا دِل نہیں مانتا کہ وہ شادی کرے، جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ کنواری لڑکی کا گھر پر بیٹھنا جائز نہیں، جبکہ سورۃ النساء میں ہے کہ سب مرد وعورت کو نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سوائے ان کے جس کا کوئی خاص سبب نہ ہو، آپ بتائیں کیا میری دوست گھر پر بیٹھ سکتی ہے؟

جواب:۔

شادی کرنا اس صورت میں ضروری ہے جب کہ شادی کے بغیر گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو،(۱) ورنہ سنت ہے، بشرطیکہ شادی کے حقوق ادا کرسکے، اور اگر حقوق ادا نہ کرسکے تو شادی کرنا دُوسروں کو خواہ مخواہ پریشان کرنا ہے۔ پس یہ صاحبہ جن کا سوال میں ذِکر کیا گیا ہے اپنی بیماری یا ذہنی کیفیت کی وجہ سے شوہر کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں تو وہ معذور ہیں، ان پر شادی نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں۔

  1. (۱) وأما صفتہ فھو أنہ فی حالۃ الْإعتدال سُنّۃ مؤکدۃ، وحالۃ التوقان واجب، وحالۃ کوف الجور مکروہ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۷، طبع بلوچستان)۔ وفی الدر المختار ج:۳ ص:۷ (طبع سعید کراچی) ویکون واجبًا عند التوقان فإن تیقن الزنا إلّا بہ فرض، وھٰذا ان ملک المھر والنفقۃ وإلّا فلا إثم بترکہ، بدائع۔ ویکون سُنّۃ مؤکدۃ فی الأصح حالۃ الْإعتدال۔