شادیکونکرےاورکسسے؟
کیامیںملازمتپیشہلڑکیسےشادیکرسکتاہوں؟
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ میرا شادی کا سلسلہ چل رہا ہے، میں گورنمنٹ ملازم ہوں، اور میری تنخواہ چار ہزار روپے ماہانہ ہے جو کہ آج کل کے حالات کے لحاظ سے کم ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں ملازمت پیشہ لڑکی سے شادی کروں، تاکہ آسانی سے گزارہ ہوسکے۔ حضرت صاحب! یہاں میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ملازمت کرنے والی لڑکیوں کے کریکٹر ٹھیک نہیں ہوتے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ پانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ برائے مہربانی میرے اس مسئلے کا جواب دیں کہ میں جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، وہ بھی گورنمنٹ ملازم ہے، لوگوں کے بیانات سے میں بہت پریشان ہوں، جس کی وجہ سے کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام ہوں، میری مدد کریں، کیا آپ اِستخارہ کردیں گے؟
جواب:۔
میں کسی کے لئے اِستخارہ تو نہیں کرتا، البتہ ’’بہشتی زیور‘‘ میں مسنون اِستخارہ لکھا ہوا ہے، اس کی لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں، اور وصیت کرتا ہوں کہ کوئی کارِخیر اِستخارۂ مسنونہ کے بغیر نہ کریں، کیونکہ حدیث میں ہے:
’’وَمِنْ شَقَاوَۃِ ابْنِ آدَمَ تَرْکُہُ اِسْتِخَارۃَ اللہِ‘‘ (مشکٰوۃ ص:۴۵۳)
’’یعنی آدمی کی بدبختی کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اِستخارہ کرنا چھوڑ دے۔‘‘
جس لڑکی سے تم نکاح کا اِرادہ کرتے ہو، اس کے بارے میں اِستخارہ بھی کرلو، اور اس کے کردار کے بارے میں بھی اِطمینان کرلو۔ دُنیا کا کھانا پینا اور یہاں کی عیش وعشرت آدمی کے پیشِ نظر نہیں رہنی چاہئے، بلکہ آدمی یہاں اپنی آخرت کو بنانے کے لئے آیا ہے، یہاں کی دو روزہ زندگی سے اگر آخرت بن گئی تو بڑی سعادت ہے، اور اگر خدانخواستہ یہاں کی جھوٹی عیش وعشرت سے آخرت بگڑگئی، تو یہ سب سے بڑی حماقت وشقاوت ہے۔ اسی لئے صوفیاء کہتے ہیں کہ: ’’الدُّنْيَا يَوْمٌ، وَلَنَا فِيهَا صَوْمٌ‘‘ یعنی ’’دُنیا ایک دِن ہے، اور ہم نے اس میں روزہ رکھ لیا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے اور دُنیا میں بھی ہماری کفایت فرمائے۔

