شادیکونکرےاورکسسے؟
لڑکیکیشادیقرآنسےکرنےکیکوئیحیثیتنہیں
سوال:۔
میرا تعلق سندھ کے خوش حال زمیندار گھرانے سے ہے، والد صاحب دولت مند اور زمیندار تھے، اس لئے بچپن نازونعم سے گزرا۔ والدہ کی وفات والد صاحب کی زندگی میں ہوگئی، میرے ایک بڑے بھائی اور ایک چھوٹی بہن کے علاوہ والد کی اور حقیقی اولاد نہیں۔ والد صاحب کی وفات عارضۂ قلب کی بنا پر ہوئی، اس وقت میری شادی کا بندوبست تلاشِ رشتہ میں والد صاحب نے کوشش کی ہوئی تھی۔ اِنتقال کے بعد بڑے بھائی نے تین ماہ بعد عملی طور پر تلاشِ رشتہ کا سلسلہ بند کردیا اور اپنے واقف کاروں کے توسط سے یہ بات مجھے ذہن نشین کرائی کہ تمہارا رِشتہ بھائی نے قرآن سے کردیا ہے۔ اس سے پیشتر میری تایازاد بہن کا رشتہ بھی قرآن سے کرادینے کی بات کا مجھے علم تھا، اس لئے مجھ پر پہاڑ ٹوٹ پڑا، مجھے اِحساس تھا کہ عورت کو مذہبی خوف کا پابند کرکے اس کی فطری خواہشات کا تدارک مذہب کی خودساختہ پابندیوں اور محض اپنی دولت کی تقسیم کو بچانے کے لئے بھائی نے یہ کوشش کی ہے۔ میں نے بھائی کو واضح طور پر ان کے دوستوں، بزرگوں کے توسط سے یہ بات پہنچادی کہ میں اپنی وراثت کے حصے کو چھوڑنے کو تیار ہوں، لیکن سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق رشتۂ اِزدواج میں جائز نیک طریقے سے منسلک ہونا چاہتی ہوں۔ بات صاف اور کھری تھی، جو بھائی کے منصوبوں کو خاک میں ملانے کے لئے کافی تھی، اس پر بھائی نے کھل کر بات کردی، کیونکہ قرآن سے شادی طے پاچکی ہے، اس لئے اب کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد سے بھائی نے مجھ پر سماجی، معاشی اور معاشرتی پابندیاں لگادی ہیں، مجھ پر قرآن کی شادی کا لیبل لگادیا گیا ہے، میں پڑھی لکھی، بالغ، ہوش مند مسلمان لڑکی ہوں، مجھے آپ سے دریافت کرنا ہے کہ:
۱:۔ کیا مجھے بھائی کی بات تسلیم کرلینی چاہئے اور عمر بھر شادی نہ کرسکنے پر خاموش رہنا چاہئے؟
۲:۔ کیا اسلام میں قرآن سے شادی کا کوئی قانون ہے؟ یا یہ محض نوجوان بیٹیوں، بہنوں کی وراثت (دولت) کو محض گھر کی دولت کو گھر میں رہنے کے لئے قرآن کے نام پر ڈھونگ رچاکر بچانے کی چالبازی نہیں ہے؟
۳:۔ قرآن سے شادی کی بنا پر اگر مجھ سے کوئی گناہ نفسانی ہوجائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
۴:۔ مجھے اس سلسلے میں قانونی اِقدام کرنا چاہئے؟
۵:۔ دِینِ اسلام، قرآن سے شادی کے قانون کو کیا درجہ دیتا ہے؟
۶:۔ قرآن سے شادی کے قانون سے تارک ہونے پر میں کس حد تک گناہگار اور شریعتِ محمدی کی مجرم قرار پاؤں گی؟
جواب:۔
’’قرآن سے شادی‘‘ کا لفظ میں نے پہلی بار آپ کی تحریر میں پڑھا، یہ خالص جاہلانہ تصوّر ہے، اسلامی شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ عاقلہ، بالغہ ہیں، اگر بھائی آپ کی شادی کرنے پر راضی نہیں تو آپ اپنے عزیزوں کے ذریعے اپنے جوڑ کا رِشتہ تلاش کرکے خود عقد کرسکتی ہیں۔
آپ کے والد مرحوم کی جائیداد میں آپ دونوں بہنوں کا حصہ بھائی کے برابر ہے، اس جائیداد کے چار حصے کئے جائیں، تو دو حصے بھائی کے، اور ایک ایک حصہ دونوں بہنوں کا ہے، اور بہن نے خواہ شادی کی ہو یا نہ کی ہو، دونوں صورتوں میں وہ اپنے حصۂ وراثت کی حق دار ہے۔
عام حالات میں شادی کرنا مرد اور عورت دونوں کے لئے سنت ہے، لیکن اگر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو فرض ہے۔(۱)
- (۱) (ویکون واجبًا عند التوقان) فإن تیقن الزنا إلّا بہ فرض، نہایۃ۔ وھٰذا إن ملک المھر والنفقۃ وإلّا فلا إثم بترکہ، بدائع۔ (و) یکون (سُنّۃ) مؤکدۃ فی الأصح حالۃ الْإعتدال۔ (درمختار ج:۳ ص:۷، طبع سعید کراچی، أیضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۷، طبع بلوچستان، أیضًا: البحر الرائق ج:۳ ص:۸۵، ۸۶، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔

