شادیکونکرےاورکسسے؟
اگروالدین۲۵سالسےزیادہعمروالیاولادکیشادینہکریں؟
سوال:۔
اگر والدین اولاد کی شادی نہ کریں اور ان کی عمریں ۲۵ سال سے بھی تجاوز کرگئی ہوں تو کیا وہ اپنی مرضی سے شادی کرسکتے ہیں؟ اس طرح کہیں والدین کی نافرمانی تو نہیں ہوجائے گی؟
جواب:۔
ایسی صورت میں اولاد کو چاہئے کہ کسی ذریعہ سے والدین کو اِحساس دِلائیں اور ان کو اولاد کی شادی کرنے پر رضامند کریں، لیکن اگر والدین اس کی پروا نہ کریں تو اولاد اپنی شادی خود کرنے میں حق بجانب ہے۔(۱)
لڑکے کا کسی جگہ خود شادی کرلینا تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن لڑکی کے لئے مشکل ہے، بہرحال اگر لڑکی بطورِ خود شادی کرنا چاہے تو اس کو یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا کہ جس لڑکے سے وہ عقد کرنا چاہتی ہے، وہ ہر حیثیت سے لڑکی کے جوڑ کا ہو، اس کو فقہ کی زبان میں ’’کفو‘‘ کہتے ہیں۔(۲)
- (۱) ﵟ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ﵞ النساء ٣۔ أیضًا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب إلیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوّجوہ، إن لّا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، طبع قدیمی)۔
- (۲) ان المرأۃ إذا زوجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء وإن زوجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح بخلاف جانب الرجل فإنہ إذا تزوّج بنفسہ مکافئۃ لہ أو لَا فإنہ صحیح لزم۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۵، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

