شادیکونکرےاورکسسے؟
لڑکیوںکیوجہسےلڑکوںکیشادیمیںدیرکرنا
سوال:۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جہاں بیٹیاں ہوتی ہیں، ان کی شادی وغیرہ کے سلسلے میں ان کے بھائیوں کو طویل فہرستِ اِنتظار میں منتقل کردیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی عمریں نکل جاتی ہیں یا کافی دیر ہوجاتی ہے۔ کیا از روئے اسلام یہ طریقہ جائز تصوّر ہوگا؟ اور یہ کہ اس دوران اگر خدانخواستہ کوئی فرد گناہ کی طرف راغب ہوگیا، اس کا وبال کس پر ہوگا؟
جواب:۔
شرعی حکم یہ ہے کہ مناسب رشتہ ملنے پر عقد جلدی کردیا جائے تاکہ نوجوان نسل کے جذبات کا بہاؤ غلط رُخ کی طرف نہ ہوجائے، ورنہ والدین بھی گناہ میں شریک ہوں گے۔(۱) ہاں! رشتہ ہی نہ ملتا ہو تو والدین پر گناہ نہیں۔(۲)
- (۱) کما فی حدیث أبی سعید وابن عباس: فإذا بلغ فلیزوجہ، فإن بلغ ولم یزوجہ فأصاب إثمًا فإنما إثمہ علٰی أبیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۱، باب الولی فی النکاح واستیذان المرأۃ، الفصل الثالث)۔
- (۲) کما قال تعالٰی: ﵟ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ ﵞ البقرة ٢٨٦۔

