بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

باپردہ‌لڑکیوں‌کی‌شادی‌آزاد‌خیال‌مردوں‌سے‌کرنا

سوال:۔

ہم لوگ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، خدا کا شکر ہے کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے، لیکن دُنیا کی نظروں میں تو ظاہر ہے کہ ہم غریب ہیں، دُوسری بات یہ کہ ہم الحمدللہ پردے کو اَپنائے ہوئے ہیں، اور آپ تو جانتے ہیں کہ آج کے معاشرے میں غریب لڑکیوں اور خاص کر باپردہ لڑکیوں کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ جیسے وہ کسی اور دُنیا کی مخلوق ہوں۔ خیر! ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں، اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ماں باپ ہمارے رشتوں کی طرف سے بہت پریشان ہیں، پہلے تین بہنوں کے رشتے آتے ہی نہیں تھے، اور جو آتے تھے وہ بہت آزاد خیال لوگوں کے۔ آخرکار تھک ہارکر جب بہنوں کی عمریں نکلنے لگیں تو ایسے گھرانوں میں ہی رشتے طے کردئیے۔ والد صاحب نے رشتہ طے کرتے وقت شرط رکھی تھی کہ میری بیٹیاں پردہ نہیں توڑیں گی، جو انہوں نے قبول کرلی، اور بالآخر شادیاں ہوگئیں، لیکن آپ خود سوچئے جب گھر کے ماحول میں اس قدر آزادی ہو کہ کوئی لڑکی چادر تک نہ اوڑھتی ہو، ایسے ماحول میں پردہ قائم رکھنا مشکل کام ہے۔ بہرحال اللہ میری بہنوں کو ہمت دے، اس ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے ہمارے بہت سے جاننے والے ایسے ہیں جو بہت نیک لوگ ہیں، اس قدر نیک کہ ان کے یہاں اتنا سخت پردہ ہے کہ عورتوں کو کوئی برقع میں بھی کبھی آزادانہ پھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، اور شریعت کے تمام قوانین کی پابندی ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب بہت امیر لوگ ہیں، اس لئے وہ لوگ جب اپنے بیٹوں کی شادیاں کرتے ہیں تو اَمیروںں کی بیٹیوں سے ہی کرتے ہیں۔ برائے کرم مولانا صاحب! مجھے بتائیے کہ یہ کہاں کا اِنصاف ہے کہ غریبوں کی بیٹیاں صرف اپنی غربت کے باعث ایسے گھرانوں میں بیاہی جانے پر مجبور ہوں جہاں وہ اللہ کے دِین کی پابندی نہ کرپائیں؟ جبکہ صاحبِ حیثیت لوگ صرف صاحبِ حیثیت لوگوں سے ہی رشتے جوڑتے چلے جائیں، جبکہ ان کے سامنے ہی ایسے گھرانے موجود ہوں جہاں نیک شریف باپردہ لڑکیاں موجود ہوں، کیا ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم بھی تمام عمر اللہ کے دِین پر قائم رہ سکیں؟ لیکن ہمیں ایک وقت پر مجبوراً ایسی جگہ جانا پڑتا ہے جہاں ہماری توقع سے بہت مختلف ماحول ملتا ہے، جہاں کوشش کے باوجود دِین پر قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے، آخر اس میں کس کا قصور ہے؟ ہم کس سے اِنصاف مانگیں؟

جواب:۔

آپ کی یہ تحریر تمام دِین دار لوگوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہے! بہرحال اپنے معیار کے شریف اور دِین دار گھرانوں کو تلاش کرکے رشتے کئے جائیں، بلکہ اگر کوئی غریب مگر شریف اور دِین دار رشتہ مل جائے تو اس کو بڑے پیٹ والے لوگوں پر ترجیح دی جائے۔ اس نوعیت کے مسائل تقریباً تمام والدین کو پیش آتے ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے میں دِین داری کی یہ قیمت بہت معمولی ہے۔ حق تعالیٰ شانہ‘ ایسے تمام والدین کی خصوصی مدد فرمائیں۔