بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

اگر‌کسی‌لڑکی‌کا‌دِین‌دار‌رشتہ‌نہ‌آئے‌تو‌وہ‌کیا‌کرے؟

سوال:۔

اگر کسی لڑکی کو نمازی یا اِسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا شخص یا رِشتہ نہ ملے تو کیا وہ بے دِین یعنی ظاہر میں مسلمان ہو، جبکہ اسلام پر عمل نہ کرتا ہو، ایسے شخص کا رِشتہ قبول کرلینا چاہئے؟

سوال:۔

کیا ایسے شخص کا رِشتہ قبول کرلینا چاہئے جو کہ شریف ہو، لیکن حرام پیشہ اِختیار کئے ہوئے یا اس کی حرام آمدنی ہو؟

سوال:۔

اسلام والدین کو لڑکے یا لڑکی کے نکاح میں کہاں تک دخل اندازی کی اجازت دیتا ہے؟ کیا وہ صرف دوست کی حیثیت سے مشورہ دیں، یا تمام معاملات میں اپنی مرضی رکھ سکتے ہیں؟

جواب:۔

بے دِین اور بے نمازی سے رِشتہ نہیں کرنا چاہئے، کسی نیک، دِین دار کا رِشتہ تلاش کرنا چاہئے۔(۱)

جواب:۔

جب اس کی آمدنی حرام کی ہوگی تو اپنی بیوی کو بھی حرام ہی کھلائے گا۔

جواب:۔

لڑکے، لڑکی کا نکاح والدین ہی کیا کرتے ہیں، یہی شریف خاندانوں کا طریقہ ہے، اور اسی کی اسلام تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اسلام والدین پر یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ وہ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی وخواہش کو مقدم سمجھیں، ان کی رضامندی کے بغیر عقد نہ کریں۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب إلیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ إن لَا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۷، أیضًا جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۵)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تنکح الثیب حتّٰی تستأمر، ولَا البکر إلّا بإذنھا، قالوا: یا رسول اللہ! وما إذنھا؟ قال: أن تسکت۔ وعن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تستأمر الیتیمۃ (أی الباکرۃ) فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۵، کتاب النکاح)۔ ولَا تجبر البکر البالغۃ علی النکاح۔۔۔ ولَا الحر البالغ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۵۸، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔