شادیکونکرےاورکسسے؟
لڑکیوںکیشادینہکرنااُنسےمحبتنہیں،ظلمہے!
سوال:۔
ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، ہمارے ماں باپ اس وقت دُنیا میں نہیں ہیں، میرے بڑے بھائی کی بیوی اور چھ بچے ہیں، جبکہ میری صرف بیوی ہے، چار سال میری شادی کو ہوئے ہیں۔ جنابِ عالی! ہمارے ماں باپ ہم سے بہت محبت کرتے تھے، ہمارے گھر کے ماحول کو ایسا بنایا تھا کہ ہم چھ بہن بھائی ایک دُوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ باپ تو بہت پہلے وفات پاچکے ہیں، لیکن ہماری والدہ صاحبہ اگست ۱۹۹۷ء میں فوت ہوچکی ہیں۔ ہماری بہنوں کے لئے باہر سے اور رشتہ داروں میں سے رشتے کے لئے لوگ آتے رہے، لیکن ہماری والدہ صاحبہ اور میرا بڑا بھائی اور بڑی بہن جو کہ عرصہ دراز سے بیمار ہے، اِنکار کرتے رہے۔ ایک دِن میں اپنی ماں کے ساتھ اکیلا بیٹھا تھا تو میری ماں نے مجھ سے کہا کہ کل تمہاری ممانی تمہاری بہن کے رشتے کے لئے آئی تھی، جس پر تمہاری بڑی بہن نے اِنکار کردیا اور کہا کہ میرے بڑے بھائی کو اور ہم کو ہماری بہنیں بہت پیاری ہیں، ہم ان کی شادیاں نہیں کراتے۔ تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ آپ کی کیا مرضی ہے؟ اس نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ بھائی بہنوں کے درمیان اتنی محبت ہو۔ والدہ صاحبہ کے اس جواب سے میں بھی خاموش ہوگیا، لیکن جب میں اِردگرد دُنیا کو دیکھتا ہوں تو اور بات ہے، لوگ تو بہنوں کی شادی کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ بہن کا حق ادا کیا۔ نکاح کے بارے میں، میں نے کئی کتابوں میں پڑھا کہ نکاح سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، آج کل میں اس مسئلے کے لئے بہت پریشان ہوں کہ آیا ہم غلط راستے پر تو نہیں جارہے؟ مہربانی کرکے قرآن وسنت کی رُو سے مجھے اس مسئلے کی تفصیل بیان فرمادیجئے اور شرعی فتویٰ لکھ دیجئے۔
جواب:۔
بہنوں کی شادی نہ کرنا سراسر ظلم ہے اور گناہ ہے، اور یہ محبت نہیں، بلکہ عداوت ہے۔۔۔!(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب إلیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ إن لَا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۷، أیضًا جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۵)۔

