بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

دِین‌کے‌کام‌کے‌لئے‌شادی‌نہ‌کرنا

سوال:۔

موجودہ حالات میں جبکہ مسلمان دِین سے دُور ہیں اور کلمے کے الفاظ تک سے واقف نہیں ہیں، ان کی حالت جانوروں سے بدتر ہو رہی ہے، بھائی بہن کے رشتے کا تقدس تک نہیں رہا، میں ایسے حالات میں دین کی محنت میں پوری جان، پورے مال اور پورے وقت کو لگا نا ضروری سمجھتا ہوں، مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اگر میں اپنی پوری زندگی دِین کے کام میں لگادُوں اور شادی نہ کروں تو دِین کے کام میں اِنتہائی مصروف ہونے کی وجہ سے کیا شریعت مجھے اس کی اِجازت دیتی ہے؟

جواب:۔

اگر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو شادی کرنا واجب ہے، ورنہ مستحب ہے،(۱) اگر شہوت کا غلبہ نہیں تو شادی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ جب شادی کا وقت تھا، تب آپ نے کی نہیں، اور جب بعد میں ضرورت پیش آئی تو آپ کو رِشتہ نہیں ملتا۔

  1. (۱) وأما صفتہ فھو أنہ فی حالۃ الْإعتدال سُنَّۃ مؤکدۃ، وحالۃ التوقان واجب، وحالۃ خوف الجور مکروہ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۷ طبع رشیدیہ)۔ وفی الدر المختار: (ویکون واجبًا عند التوقان) فإن تیقن الزنا إلّا بہ فرض، نھایۃ۔ وھٰذا إن ملک المھر والنفقۃ وإلّا فلا إثم بترکہ۔ (و) یکون (سُنّۃ) مؤکدۃ فی الأصح۔۔۔ حال الْإعتدال ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۳ ص:۷، طبع ایچ ایم سعید کراچی، أیضًا: البحر الرائق ج:۳ ص:۸۵، ۸۶ کتاب النکاح، طبع بیروت)۔