شادیکونکرےاورکسسے؟
جواناولادکیشادینہکرنےکاوبال
سوال:۔
جب اولاد جوان ہوکر پچّیس یا تیس برس کی عمر تک پہنچے اور ہمارے معاشرے کی مصنوعی اقدار (مثلاً: اعلیٰ تعلیم مکمل نہ ہونا، ذاتی مکان، سامانِ آرائش، جہیز وغیرہ کا اِنتظام نہ ہونا) کی وجہ سے شرعی نکاح وعقد کا اِنتظام نہ کیا جائے، اور پھر جوان اولاد سے گناہ سرزد ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، والدین پر یا اولاد پر؟
جواب:۔
گناہ تو گناہ کرنے والے پر ہے، مگر والدین اس گناہ کا سبب بنے ہیں، اس لئے وہ بھی اس گناہ میں حصہ دار ہیں۔(۱)
- (۱) عن أبی سعید وابن عباس قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وأدّبہ فإذا بلغ فلیزوّجہ فإن بلغ ولم یزوجہ فأصاب إثمًا فإنما إثمہ علٰی أبیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۱، باب الولی فی النکاح واستیذان المرأۃ)۔

