شادیکونکرےاورکسسے؟
کیاابشادینہہونا،نیکرشتہٹھکرانےکینحوستکیوجہسےہے؟
سوال:۔
میں ہومیوپیتھ کی ڈاکٹرنی ہوں، سیرت وصورت کے اِعتبار سے اللہ نے مجھے قابلِ پسند بنایا ہے، مگر اس کے باوجود تقریباً چھ ماہ میں تین جگہ رشتے لگ کر چھوٹ گئے۔ جس سے بہت پریشان ہوں۔ سہیلیاں مذاق اُڑاتی ہیں، جس کی وجہ سے مجھے اور ذہنی اُلجھن رہتی ہے۔ اَزراہِ کرم آپ اس کا کوئی حل بتادیں۔ ساتھ ساتھ ایک بات اور عرض کرنا ضروری سمجھ رہی ہوں کہ ۱۹۸۷ء میں میری خالہ نے مجھے اپنے لڑکے کے لئے پسند کیا تھا، لڑکا ہر اِعتبار سے قابلِ پسند ہے، لیکن تبلیغی جماعت سے منسلک رہنے کی وجہ سے انہوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے، اور محض داڑھی کی وجہ سے میں نے انہیں ٹھکرادیا تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے، بلکہ میری بھابھی بھی اب مجھے طعنہ دیتی ہے کہ سنت پر چلنے والے لڑکے کو جو ٹھکرائے، اُسے ایسی ہی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑے گا، اور شاید یہ اسی کی نحوست ہے۔ اگر آپ کے خیال میں یہ بات دُرست ہے تو تلافی کی کوئی صورت بتادیں۔ ویسے میں اپنی غلطی پر نادم ہوں اور توبہ کرتی ہوں کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو معمولی چیز نہیں سمجھوں گی۔ آخر میں آپ سے گزارش ہے کہ دُعا فرمادیں کہ میری خالہ دوبارہ رشتے کے لئے رضامند ہوجائیں، کیونکہ اب میرے والدین بھی بہت پریشان نظر آتے ہیں۔
جواب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو حقارت سے ٹھکرانا صرف گناہ نہیں، بلکہ کفر ہے۔(۱) اس کے بعد آپ کیا توقع رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا؟ اس سے توبہ کرلیجئے، اور اگر خالہ زاد آپ کو پسند ہے تو اس رشتے کو منظور کرلیجئے، نہایت باعثِ برکت ہوگا، اِن شاء اللہ!
- (۱) ففی الشامیۃ نقلاً عن المسایرۃ کفر الحنفیۃ بألفاظ کثیرۃ۔۔۔ أو استقباحھا کمن إستقبح من آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو إحفاء شاربہ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۲۲، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔ وفی البحر: وباستخفافہ بسنۃ من السنن۔ (ج:۵ ص:۱۲۱، طبع بیروت)۔ والحاصل أنہ إذا استخف بسنۃ أو حدیث من أحادیثہ صلی اللہ علیہ وسلم کفر۔ (البزازیۃ علٰی ھامش الھندیۃ ج:۶ ص:۳۲۸، الفصل الثانی، طبع رشیدیۃ)۔

