بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

لڑکیوں‌کے‌رشتے‌میں‌غلط‌شرائط‌لگاکر‌دیر‌کرنا‌دُرست‌نہیں

سوال:۔

میری عمر ۲۷ سال ہے، ۲۱ سال کی عمر سے مختلف افراد کے کئی رشتے آچکے ہیں، مگر میرے والدین کا پیمانہ بہت اُونچا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ لڑکا بی اے، ایم اے ہو، اور دس پندرہ ہزار روپے تنخواہ پاتا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ اب کچھ دِنوں سے ایسے افراد کے رشتے آرہے ہیں جو مجھ سے دُگنی عمر کے ہیں۔ اب ایک صاحب کا رشتہ آیا ہے، جو مجھ سے دُگنی عمر کے ہیں، یہ نمازی، شریف اور پڑھے لکھے ہیں، میرے والدین عمر کی وجہ سے انہیں منع کر رہے ہیں۔ میں اس رشتے پر رضامند ہوں، صرف والدین کی ناراضی کی وجہ سے خاموش ہوں۔ آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں شادی کے وقت کن کن باتوں کا خیال ضروری ہے؟ جب لڑکا اور لڑکی دونوں راضی ہوں تو لڑکا اور لڑکی کو گھر بٹھاکر رکھنا کیسا ہے؟ ماںباپ صرف اس لئے راضی نہیں ہیں کہ دُنیا والوں کو کیا منہ دِکھائیں گے؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ: ’’علی! جب رشتہ جوڑ کا مل جائے تو رشتہ کرنے میں تأخیر نہ کرنا۔‘‘(۱) آپ نے جو صورتِ حال لکھی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دو سال اگر یہ رشتہ نہ کیا گیا تو پھر وقت ہی گزر جائے گا، اس لئے میں آپ کے والدین کو مشورہ دُوں گا کہ لمبے چوڑے مطالبات کو چھوڑ کر رِشتہ کرنے کی کوشش کریں، اور مناسب سے مناسب جو رِشتہ مل سکے، اس میں تأخیر نہ کریں۔

  1. (۱) عن علی أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یا علی! ثلاث لَا تؤخرھا: الصلٰوۃ إذا أتت، والجنازۃ إذا حضرت، والأیم إذا وجدتَّ لھا کفوا۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۶۱، باب تعجیل الصلاۃ، الفصل الثانی)۔