شادیکونکرےاورکسسے؟
والدصاحبکےکہنےپراَنپڑھعورتسےشادیکرلوںیااپنےطورپرپڑھیلکھیسے؟
سوال:۔
میں دِینی مدرسے کا طالبِ علم ہوں، میرے والد صاحب میرا نکاح میرے چچا کی بیٹی سے کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نے اِنکار کردیا ہے، کیونکہ اس لڑکی میں نہ دُنیوی تعلیم ہے نہ دِینی، بلکہ ناظرہ بھی نہیں پڑھی ہوئی۔ میرا اِرادہ ہے کہ مستقبل میں ہر آن، ہر گھڑی دِین کی محنت کروں، جبکہ والد صاحب کی بات ماننے میں یہ اِرادہ پورا ہونا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ اولاد کی تربیت میں ماں کا بہت دخل ہے، اور شرعی پردہ اپنے گھر میں جاری کرنا بھی مشکل بن جائے گا۔ دُوسری طرف مجھے ایک ایسی لڑکی نکاح کے لئے مل رہی ہے جو کہ مدرسے میں ثالثہ پڑھ رہی ہے، اور اس کا گھرانہ بھی بہت دِین دار ہے، لیکن میرے والد صاحب اس پر راضی نہیں ہیں، والد صاحب کی اس ناراضگی پر میں گنہگار ہوسکتا ہوں یا نہیں؟
جواب:۔
میرے بھائی! تمہارے جذبات بہت اچھے ہیں، اللہ تعالیٰ تم کو نیکی عطا فرمائے۔ میرے خیال میں تمہارے والد صاحب کی رائے زیادہ صحیح ہے، وہ کسی اَن پڑھ لڑکی سے تمہارا نکاح کرنا چاہتے ہیں، دِین کی ضروری تعلیم کی باتیں تم ان کو بتاسکوگے۔ دِینی مدرسے میں یا اسکول کالج میں پڑھنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ میں تو دو سال کا بچہ تھا جب میری والدہ کا اِنتقال ہوا، لیکن میرا خیال ہے وہ مرحومہ شاید قرآن مجید بھی نہیں پڑھی ہوئی تھیں۔ ہمارے حضرت عارف باللہ ڈاکٹر عبدالحی عارفی قدس سرہٗ فرمایا کرتے تھے: ’’جتنے بڑے بڑے آدمی تمہیں نظر آئیں گے، وہ اَن پڑھ ماؤں کی گود میں پلے ہیں، آج کی پڑھی لکھی عورتوں نے بھی کسی بڑے آدمی کو جنم دیا ہے؟‘‘ اور لکھنا تو بے ادبی ہوگی، لیکن حضرات اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہنّ نے کس مدرسے میں یا اسکول میں پڑھا تھا؟ میں بچیوں کو پڑھانے کا مخالف نہیں ہوں، میں نے اپنی بچیوں کو خود پڑھایا ہے، لیکن اس بددِماغی کا مخالف ہوں کہ کسی اَن پڑھ بچی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، والسلام۔

