شادیکونکرےاورکسسے؟
شادیمیںقابلِترجیحچیزکونسیہو؟
سوال:۔
اسلام کی رُو سے شادی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور کن باتوں کو پیشِ نظر رکھ کر دُوسری جگہ رشتہ طے کرنا چاہئے؟ کیا سیّد فیملی میں صرف سیّد ہی شادی کرسکتے ہیں؟ برائے مہربانی میری اور میری طرح بے شمار لوگوں کے لئے اس سوال کا جواب بہت اہم اور ضرورت کا حامل ہے۔
جواب:۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اِرشاد فرمایا: ’’شادی چار چیزوں کے لئے کی جاتی ہے: عورت کے مال، حسب ونسب، حسن وخوبصورتی اور دِین کی وجہ سے، پس تم دِین کو ترجیح دو۔‘‘ سیّد خاندان میں غیرسیّد کا نکاح ہوسکتا ہے۔ بہرحال دِین دار کو ترجیح دینا چاہئے، چاہے خاندان میں، چاہے غیرخاندان میں۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تنکح المرأۃ لأربع: لمالھا، ولحسبھا، ولجمالھا، ولدینھا، فاظفر بذات الدین تربت یداک۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الأوّل)۔

