شادیکونکرےاورکسسے؟
لڑکیاورلڑکےکیکنصفاتکوترجیحدیناچاہئے؟
سوال:۔
جس وقت رشتوں کا سلسلہ ہوتا ہے، یہ بات مشاہدے میں ہے کہ لڑکیوں کو اس طرح دیکھا جاتا ہے جیسے بھیڑ بکریوں کو عید کے موقع پر دیکھا جاتا ہے، کیا یہ صحیح طریقہ ہے؟ دُوسری بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ چاہے لڑکی ہو یا لڑکا، اس سلسلے میں معاملہ تجارتی بنیادوں پر بھی ہوتا ہے، مثلاً: لڑکا کتنا امیر ہے؟ (چاہے حرام ہی کماتا ہو)، لڑکی کتنا جہیز لائے گی؟ (چاہے حرام آمدنی کا کیوں نہ ہو)، اس سلسلے میں اَحکامِ اسلامی کیا ہوں گے؟
جواب:۔
اسلام کا حکم یہ ہے کہ رشتہ کرتے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کی دِین داری اور شرافت و امانت کو ترجیح دی جائے۔(۱) جو لڑکا حرام کماتا ہو، اس سے وہ لڑکا اچھا ہے جو رزقِ حلال کماتا ہو خواہ مالی حیثیت سے کمزور ہو۔(۲) اور جو لڑکی دِین دار ہو، عفیفہ ہو، شوہر کی فرمانبردار ہو، وہ بہتر ہے خواہ وہ جہیز نہ لائے یا کم لائے۔
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب إلیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ، إن لَا تفعلوا تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الثانی، وجامع الأصول ج:۱۱ ص: ۴۶۵، طبع بیروت)۔ أیضًا: عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تنکح المرأۃ لأربع: لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا، فاظفر بذات الدین تربت یداک۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الأوّل)۔
- (۲) وفی شرح السنۃ روی ان رجلًا جاء إلی الحسن وقال: ان لی بنتًا وقد خطبھا غیر واحد، فمن تشیر علی ان أزوجھا؟ قال: زوجھا رجلًا یتقی اللہ، فإنہ إن أحبھا أکرمھا، وإن أبغضھا، لم یظلمھا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۳ ص:۴۰۳ طبع بمبئی)۔

