بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

شادی‌میں‌والدین‌کی‌خلافِ‌شرع‌خواہشات‌کا‌لحاظ‌نہ‌کیا‌جائے

سوال:۔

میرے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے، وہ کہتا ہے کہ براہِ راست نکاح پڑھادیا جائے، لیکن والدہ بضد ہیں کہ پہلے چھوٹی منگنی اور اس کے بعد نکاح مع رُسوم کے ہوگا۔ گھر کی عمارت کو سجاوٹ اور چراغاں بھی کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ پھر ان کا کوئی بیٹا نہیں، بتائیے والدہ کی جھوٹی خواہشات کا احترام کیا جائے یا سنتِ محمدی کی اطاعت کی جائے؟

جواب:۔

سنت کی پیروی لازم ہے، اور والدہ کی خلافِ شریعت خواہشات کا پورا کرنا ناجائز ہے،(۱) مگر والدہ کی بے ادبی نہ کی جائے، ان کو مؤدّبانہ لہجے میں مسئلہ سمجھایا جائے۔(۲)

  1. (۱) عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن أحدکم حتّٰی یکون ھواہ تبعًا لما جئت بہ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۰ باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ)۔ أیضًا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘۔ (مشکوٰۃ ص:۳۲۱، کتاب الْإمارۃ، الفصل الثانی)۔
  2. (۲) کما قال تعالٰی: ﵟ فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ٢٣ ﵞ الإسراء ٢٣۔