بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

والدین‌اگر‌شادی‌پر‌تعلیم‌کو‌ترجیح‌دیں‌تو‌اولاد‌کیا‌کرے؟

سوال:۔

میرے والدین اگرچہ ہم سب کو بڑی محنت اور توجہ سے تعلیم حاصل کروا رہے ہیں، لیکن انہوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ سب کچھ تعلیم ہی ہے، میں اگرچہ بہت چھوٹا ہوں لیکن میری بڑی بہنیں ہیں، جنھیں اعلیٰ تعلیم دِلوائی جارہی ہے، لیکن میرے والدین کو ذرا بھی ان کی شادی کی فکر نہیں جبکہ وہ خود بوڑھے ہو رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آج کل کا زمانہ کتنا خراب ہے، اور میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور جب میں بڑا ہوں گا تو اس وقت تک میری بہنیں ادھیڑ عمر کی ہوچکی ہوں گی، پھر تو رشتہ ملنا ہی مشکل ہوگا، جبکہ اس وقت رشتے آرہے ہیں، لیکن میرے والد صاحب سب سے ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں، جبکہ میں جانتا ہوں میری بہنیں ان رشتوں پر خوش ہیں۔ اگر والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے تو کیا اولاد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوِل میرج کرلیں؟ جبکہ دونوں ہی مسلمان ہیں اور اسلام میں یہ بات جائز بھی ہے۔

جواب:۔

آج کل اعلیٰ تعلیم کے شوق نے والدین کو اپنے اس فریضے سے غافل کر رکھا ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی عمر کالج اور یونیورسٹیوں کے چکر میں ڈھل جاتی ہے، اور جب وقت گزر جاتا ہے تو ماں باپ کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ مجھے اس طرح کے سینکڑوں خطوط موصول ہوچکے ہیں کہ لڑکی کی عمر ۳۰-۳۵ برس کی ہوگئی، کوئی رشتہ نہیں آتا اور جو آتا ہے وہ بھی دیکھ داکھ کر چپ سادھ لیتا ہے۔ کوئی تعویذ، وظیفہ اور عمل بتاؤ کہ بچیوں کی شادی ہوجائے۔ لڑکی پڑھی لکھی قبول صورت اور سگھڑ ہے، مگر رشتہ نہیں ہو پاتا، وغیرہ وغیرہ۔ خدا جانے کتنے خاندان اس سیلاب میں ڈُوب چکے ہیں اور کتنے لڑکے لڑکیاں غلط راستے پر چل نکلی ہیں، اس لئے آپ نے جو لکھا ہے، وہ ایک دِلخراش حقیقت ہے، حدیث میں ہے کہ:

’’عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ، فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ، فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى أَبِيهِ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۷۱)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوسعید اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ۔۔۔ جب اولاد بالغ ہوجائے اور والدین ان کے نکاح سے آنکھیں بند کئے رکھیں، اس صورت میں اگر اولاد کسی غلطی کی مرتکب ہو تو والدین بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہوں گے۔‘‘

باقی رہا یہ سوال کہ اگر والدین غفلت برتیں تو کیا لڑکا لڑکی خود اپنا نکاح بذریعہ عدالت کرسکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دونوں ہر حیثیت سے برابر ہوں تو یہ نکاح صحیح ہوگا، ورنہ نہیں۔(۱) البتہ لڑکے کا کسی جگہ خود شادی کرلینا تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن لڑکی کے لئے مشکل ہے، بہرحال اگر لڑکی خود شادی کرنا چاہے تو اس کو یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا کہ جس لڑکے سے وہ عقد کرنا چاہتی ہے، وہ ہر حیثیت سے لڑکی کے جوڑ کا ہو، اس کو فقہ کی زبان میں ’’کفو‘‘ کہتے ہیں۔(۲)

  1. (۱) فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضا ولی، والأصل أن کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ ومالَا فلا۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۳ ص:۵۶، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  2. (۲) ان المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء، وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم أو لَا یصح بخلاف جانب الرجل فإنہ إذا تزوّج بنفسہ مکافئۃ لہ أو لَا فإنہ صحیح لَازم۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۵)۔