شادیکونکرےاورکسسے؟
شادیکےمعاملےمیںوالدینکاحکمماننا
سوال:۔
بعض گھرانوں میں جبکہ اولاد بالغ، سمجھ دار اور پڑھ لکھ جاتی ہے لیکن والدین اپنی خاندانی روایات کو نبھانے کی خاطر یا پھر دولت، جائیداد کی خاطر اولاد کو جہنم میں جھونک دیتے ہیں، بغیر ان کی رائے جانے ان کی زندگی کے فیصلے کردیتے ہیں، بیشک اولاد کا فرض ہے کہ ماں باپ کی فرمانبرداری و اطاعت کرے، لیکن کیا خدا نے اولاد کو اس قدر بے بس بنایا ہے کہ وہ والدین کے غیراسلامی فیصلے جو کہ ان کی زندگی کے متعلق کئے جاتے ہیں، ان پر بھی خاموش تماشائی بن کر اپنی زندگی ان کے حوالے کردیں؟ کیا اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی زندگی کا یہ اہم فیصلہ خود کرسکے؟
جواب:۔
شریعت نے جس طرح اولاد کے ذمہ والدین کے حقوق رکھے ہیں،(۱) اسی طرح والدین کے ذمہ اولاد کے حقوق بھی رکھے ہیں، اور جو بھی ان حقوق کو نظراَنداز کرے گا اس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہوگا۔(۲) مثلاً شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے،(۳) اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو اِنکار کا حق ہے،(۴) اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بناء پر اس کو ہنسی خوشی قبول کرلے اور پھر نبھاکر دِکھادے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے،(۵) لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ٢٣ وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا ٢٤ ﵞ الإسراء ٢٣ و ٢٤۔ وقال تعالٰی:ﵟ وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ ﵞ العنكبوت ٨۔ وفی الحدیث: عن أبی أمامۃ رضی اللہ عنہ أن رجلًا قال: یا رسول اللہ! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔ (ابن ماجۃ ص:۲۶۰)۔ وعن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا ﷲ فی والدین أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّۃ، وإن کان واحدًا فواحدًا، ومن أصبح عاصیًا ﷲ فی والدین، أصبح لہ بابان، مفتوحان من النار، إن کان واحدًا فواحدًا۔ قال: رجل: وإن ظلماہ؟ قال: وإن ظلماہ! وإن ظلماہ! وإن ظلماہ! (مشکٰوۃ ص:۴۲۱)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا أحدثکم بأکبر الکبائر؟ قال: بلٰی یا رسول اللہ! قال: الْإشراک باللہ وعقوق الوالدین ۔۔۔إلخ۔ (جامع ترمذی ج:۲ ص:۲، طبع دھلی)۔
- (۲) وعن عبداللہ بن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا کلّکم راعٍ وکلُّکم مسئول عن رعیتہ، فالْإمام الذی علی الناس راعٍ وھو مسئول عن رعیتہ، والرجل راعٍ علٰی أھل بیتہ وھو مسئول عن رعیتہ، والمرأۃ راعیۃ علٰی بیت زوجھا وولدہ وھی مسئولۃ عنھم، وعبدالرجل راع علٰی مال سیّدہ وھو مسئول عنہ، ألَا فکلکم راعٍ وکلّکم مسئول عن رعیتہ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۲۰، ۳۲۱، کتاب الْإمارۃ)۔ ۹۰۱۴ (س - عائشۃ رضی اللہ عنھا) أن فتاۃً دخلتْ علیھا فقالت: إن أبی زوّجنی من ابن أخیہ، لیرفع بی خسیستہ، وأنا کارھۃٌ، قالت: إجلسی حتّٰی یأتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأخبرتہ، فأرسل إلٰی أبیھا فدعاہ، فعجل الأمر إلیھا، فقالت: یا رسول اللہ! قد أجزتُ ما صنع أبی، ولٰـکن أردتُ أن أُعْلِمَ الناس أن لیس للأبآء من الأمر شیء، وفی نسخۃ السماع أردتُ أن أعْلَمَ أللنساء من الأمر شیئٌ؟ أخرجہ النسائی۔ (جامع الأصول فی أحادیث الرسول لِابن أثیر الجزری ج:۱۱ ص:۴۶۴، طبع بیروت)۔
- (۳) والسُّنَّۃ أن یستأمر البکر ولیھا قبل النکاح۔۔۔ وإن زوجھا بغیر إستئمار فقد أخطأ السُّنَّۃ، وتوقف علٰی رضاھا، وھو محمل النھی فی حدیث مسلم: لَا تنکح الأیم حتّٰی تستأمر ولَا تنکح البکر حتّٰی تستأذن ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۱، کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء)۔ ولَا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: ولَا الحر البالغ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۳ ص:۵۸ طبع سعید کراچی)۔
- (۴) أنّ جاریۃً بکرًا أتَتْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فذکرت أن أباھا زوجھا وھی کارھۃ فخیرھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، أخرجہ أبو داوٗد۔ (جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۳، طبع بیروت)۔ لَا یجوز نکاح أحد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا فإن فعل ذٰلک فالنکاح موقوف علٰی إجازتھا فإن أجازتہ جاز، وإن ردّتہ بطل، کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری، کتاب النکاح ج:۱ ص:۲۸۷، طبع بلوچستان)۔
- (۵) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا ﷲ فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّۃ وإن کان واحدًا فواحدًا۔ (مشکوٰۃ ص:۴۲۱، باب البر والصلۃ، الفصل الثالث)۔

