شادیکونکرےاورکسسے؟
لڑکیکیشادیمیںاُسکیرضامندیضروریہے،توپھروالدینکیباتماننےکامشورہکیوں؟
سوال:۔
محترم بزرگ! ۱۳؍ستمبر بروزِ جمعہ کا اخبار پڑھا، جس میں ایک لڑکی نے آپ سے بغیر اِجازت لڑکی کے نکاح کے مسئلے کے بارے میں پوچھا تھا، مولانا صاحب! آپ نے اس دُکھ بھرے خط کا جواب آخر میں یہ دیا کہ اگر آپ کے والدین بضد ہیں تو اس کو تقدیرِ اِلٰہی سمجھ کر قبول کرلیں، اللہ تعالیٰ اس میں آپ کو برکت عطا فرمائیں گے۔ مولانا صاحب! اللہ رَبّ العزّت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالغ لڑکی کی پسند کی اِجازت دی ہے، یہاں تک کہ لڑکی کی مرضی نہ ہو تو نکاح بھی نہیں ہوتا۔ پھر یہ والدین کی ضد اور زبردستی کیسی؟ یہ سراسر ظلم ہے، جبکہ نتائج بعد میں لڑکی کے لئے تکلیف دہ ہوتے ہیں، کیونکہ زندگی لڑکی نے گزارنی ہوتی ہے، کیونکہ میں بھی اسی لڑکی کی طرح دُکھیا لڑکی ہوں، میرے محترم بزرگ! آپ سے میری گزارش ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’حق اور اِنصاف کی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔‘‘
۱:۔ میرے والد محترم زمین حاصل کرنے کی خاطر میری شادی ایک ایسے شخص سے کردینا چاہتے ہیں جس کا اخلاق اچھا نہیں ہے، جو بے روزگار ہے، منکر اور اِحسان فراموش بھی ہے، کیونکہ والد محترم ہمیشہ ان پر اِحسان کرتے چلے آئے، جس کے صلے میں انہوں نے ظلم کے سوا کچھ نہ دیا۔ اس کے باوجود جبر کی اِنتہا دیکھئے کہ اباجی نے جرگے میں موجود تمام مردوں سے کہا کہ: ’’تم کیسے مرد ہو کہ لڑکی سے ایک بات بھی نہیں منوا سکتے؟‘‘ مطلب یہ تھا کہ اگر نرمی سے نہ مانے تو زبردستی کی جائے۔
۲:۔ کیا یہ سودے بازی نہیں ہے؟ کیا یہ لڑکی پر ظلم نہیں ہے؟ جبکہ والد محترم دِینِ اسلام کے بارے میں تفسیر پڑھے ہوئے ہیں، اور سب مسائل معلوم ہیں، اور جانتے ہیں کہ دُوسروں پر ظلم کرنے والا خود اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے اور بیٹی تو بے بس ہوتی ہے۔
۳:۔ آپ نے اس لڑکی کو مشورہ دیا کہ یہ تقدیرِ اِلٰہی سمجھ کر بات مان لیں۔ عورت نے ہمیشہ ظلم کو تقدیرِ اِلٰہی سمجھ کر برداشت کیا، یہ سوچ کر کہ اس کی بیٹیاں ظلم سے بچیں گی اور سکھ سے رہیں گی، لیکن اس کی بیٹیوں پر بھی وہی ظلم دُہرایا گیا، کیا یہ بات صحیح نہیں ہے؟
۴:۔ کیا عورت اِنصاف ملنے کی اُمید ختم کردے؟ جبکہ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ایک کنواری لڑکی کا اس کی مرضی کے خلاف اس کے والد نے نکاح کردیا، وہ لڑکی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی کہ میری مرضی کے خلاف زبردستی میرے والد نے نکاح کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت نکاح کو ختم کرادیا۔ ایک اور حدیثِ مبارکہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے تین رشتے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مرضی معلوم کی تھی۔ آخری چوتھا رشتہ حضرت علیؓ کا تھا اور پھر حضرت فاطمہؓ نے اپنی مرضی بیان فرمادی جو کہ ہاں میں تھی۔
یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے کیا کہ ان کی اُمت اس پر عمل کرے، پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تقدیرِ اِلٰہی سمجھ کر اس ظلم کو قبول کرلیا جائے؟ اس ظلم کو روکا کیوں نہیں جاتا؟ اس لئے نا کہ یہ بیٹیوں کا معاملہ ہے، ایک کمزور ہستی کا معاملہ ہے، یہ مظلوم کی آہوں اور سسکیوں کو کوئی سننے والا نہیں؟ لڑکوں سے اس کی مرضی معلوم کی جاسکتی ہے تو بیٹیوں کو اس حق سے کیوں دستبردار کردیا جاتا ہے؟
۵:۔ پسند، ناپسند کا حق عورت کو رَبّ العزّت نے دیا ہے، پھر وہ اپنے حق کو اِستعمال کیوں نہیں کرسکتی؟
۶:۔ میرے محترم بزرگ! دِینِ اسلام میں ذات پات، اُونچ نیچ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پھر رِشتے صرف ذات کے لئے کیوں ٹھکرا دئیے جاتے ہیں؟ بیٹیوں کا رِشتہ خاندان میں ہی دیا جاتا ہے، چاہے لڑکے کا اخلاق اچھا نہ ہو، صوم وصلوٰۃ کا پابند نہ ہو، بے روزگار ہو۔ محترم بزرگ! اب آپ ہی بتائیے! ہم لڑکیاں کس سے اِنصاف مانگیں؟
لڑکوں سے اس کی پسند وناپسند کو ترجیح دی جاتی ہے، یہ کیسا اِنصاف ہے؟ کیونکہ بیٹے والدین کا سہارا ہوتے ہیں، اس لئے لڑکے کی رائے کو مقدم رکھا جاتا ہے، اس لئے نا کہ وہ بیٹا ہے، لڑکا ہے۔ محترم بزرگ! آپ سے گزارش ہے کہ تمام سوالات کا ایک ایک کرکے جواب دیجئے، تاکہ میرے والد محترم جیسے اور بھی والدین آپ کے جواب کو پڑھیں اور ان کے دِلوں میں بیٹیوں کے لئے نرمی پیدا ہوسکے۔ اس کے ساتھ میرا خط بھی شائع کیجئے گا۔ آپ سے ایک اور گزارش ہے، بلکہ اِلتجا ہے کہ آپ بیٹیوں کے حقوق پر ایک مفصل کالم لکھئے۔
آخر میں میری اپیل ہے دُنیا کے والدین سے کہ خدارا! بیٹیوں کو اس ایک حق سے محروم نہ کریں جو رَبِّ کعبہ نے اسے دیا ہے، بیٹیاں تو بے بس ہوتی ہیں، کمزور ہوتی ہیں۔
۷:۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کا رُتبہ اور اس کا درجہ بلند رکھا ہے، حدیثِ مبارکہ ہے کہ ایک صحابی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا کہ یا رسول اللہ! مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں کا! صحابی نے تین بار یہی سوال دُہرایا اور آپ نے تینوں مرتبہ ’’ماں‘‘ کا لفظ اِستعمال فرمایا۔ آخر چوتھی بار آپ نے فرمایا: تمہارے باپ کا بھی ہے۔ اس حدیث کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب ماں کا رُتبہ اس قدر بلند ہے تو پھر بیٹی کے شادی کے متعلق ماں سے مشورہ کیوں نہیں لیا جاتا؟ کیا باپ بیٹی کو ماں کی اولاد نہیں سمجھتے؟ میرے والد محترم نے امی جان سے مشورہ لئے بغیر ان لوگوں کو خود بلایا اور کہا کہ یہ آپ کی چیز ہے، جب چاہیں ہاتھ پکڑکر لے جائیں، میری طرف سے اِجازت ہے۔ کیا شریعت میں اس طرح کرنے کی اِجازت ہے؟ میرے محترم بزرگ! میری ماں وہ ہستی ہے جنہوں نے اس معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے ہر عمل سے ہمیں نیکی کی راہ دِکھائی، ہماری خوشی اور سکھ کی خاطر اپنے ہر آرام کو ختم کردیا۔ مگر والد محترم نے امی جان سے مشورہ نہ لیا۔ کیا اباجی کو ایسا کرنا چاہئے تھا؟ جس طرح میں ابا کی بیٹی ہوں، اسی طرح اپنی ماں کی بھی بیٹی ہوں، ماں دُنیا کے تمام دُکھ برداشت کرسکتی ہے، مگر اولاد کا دُکھ وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔ میرے محترم بزرگ! رحمۃ للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’کوئی کام شروع کرنے سے پہلے گھر والوں سے مشورہ کرلیا کرو۔‘‘ والد محترم کہتے ہیں کہ میں نے بیٹی کو کھلایا، پلایا، پڑھایا، اس کی ضروریات پوری کیں، مجھے حق ہے کہ جہاں چاہوں اس کی شادی کروں۔
جواب:۔
اس بچی کو میں نے شرعی مسئلہ تو پہلے بتادیا تھا کہ عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوتا۔(۱) مسئلہ لکھنے کے بعد میں نے بچی کو ذاتی مشورہ دیا تھا، اور مشورہ ’’حکم‘‘ نہیں ہوتا، نہ اس کا ماننا ضروری ہوتا ہے۔ مشورے کی وجہ یہ تھی کہ جو لڑکیاں والدین کے خلاف بغاوت کرکے اپنا نکاح خود کرلیتی ہیں، ان کو آئندہ زندگی میں بے شمار اُلجھنیں پیش آتی ہیں۔ (مجھے بے شمار خطوط کی روشنی میں اس کا بڑی حد تک تجربہ ہے) اور اگر لڑکی ’’تن بہ رضا‘‘ کے طور پر اپنے والدین کے فیصلے کو دِل سے قبول کرلیتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ‘ اس کے لئے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ الغرض! اس بچی کو جو کچھ لکھا تھا اس کی خیرخواہی کے طور پر لکھا تھا اور بطورِ مشورہ لکھا تھا۔ میں نہیں سمجھا کہ میں نے یہ مشورہ دے کر حق واِنصاف کے خلاف کیسے کیا۔؟ (اگر میرا یہ خیرخواہانہ مشورہ واقعی حق واِنصاف کے خلاف ہو، تو میں اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوں)۔
اب میں آپ کے سوالوں کا جواب لکھتا ہوں، (چونکہ آپ نے میرے اس مشورے کو بھی، جو میں نے اس بچی کو دِیا تھا، حق واِنصاف کے خلاف سمجھا ہے، اس لئے میں آپ کو کوئی مشورہ بھی نہیں دُوں گا)۔
۱:۔ آپ کے والد صاحب کا ایک ایسے شخص سے رِشتہ تجویز کرنا جس کو آپ پسند نہیں کرتیں، قطعاً غلط ہے، اور جرگے سے جو کچھ آپ کے والد صاحب نے کہا، وہ بھی شرعاً غلط اور گناہ ہے، ان تمام افراد کو جو اس زبردستی میں ملوّث ہیں، توبہ کرنی چاہئے۔(۲)
۲:۔ آپ کی مرضی کے خلاف رِشتہ تجویز کرنا بلاشبہ ظلم ہے، اور اگر آپ کے والد صاحب کا اس رِشتے میں کوئی ذاتی مفاد ہے، تو ظلم دَر ظلم ہے کہ اپنی ذاتی غرض کے لئے اولاد کی زندگی تباہ کرنا تقاضائے شرافت واِنسانیت کے بھی خلاف ہے۔
۳:۔ مشورہ اور تقدیرِ اِلٰہی کی بات تو اُوپر لکھ چکا ہوں، مگر اتنی بات مزید لکھتا ہوں کہ اگر تقدیرِ اِلٰہی پر رضامندی ہو تو رِضا میں شکایت نہیں رہتی، اور جس شخص کو شکایت ہو، وہ تقدیرِ اِلٰہی پر راضی ہی نہیں ہوا۔ بہرحال! جس خاتون نے کسی وجہ سے بھی ظلم برداشت کیا، اس پر مزید ظلم ڈھانا رَذالت کی بات ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں اُمت کو جہاں اور بہت سی قیمتی وصیتیں اِرشاد فرمائی تھیں، وہاں بطورِ خاص عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی تھی:
’’عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو! تم نے ان کو اللہ کا عہد دے کر لیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کا واسطہ دے کر اپنے گھروں میں لاڈالا ہے۔‘‘ (ابوداؤد ج:۱ ص: ۲۶۳)(۳)
اور بہت سی احادیث میں اِرشاد ہے کہ: ’’میں تمہیں عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘(۴)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بے شمار تاکیدی اَحکام کے باوجود، اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر یا اپنی بیٹیوں پر ظلم رَوا رکھتا ہے، تو وہ خدا رسول کا مجرم ہے۔
۴:۔ عورت کو اِنصاف کی اُمید ختم نہیں کرنی چاہئے، مگر اِنصاف کے حصول کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ جن لوگوں کے ذمے یہ بات لازم کی گئی ہے کہ وہ لڑکیوں کی رضامندی معلوم کرکے ان کی شادی کریں، وہ خود اِنصاف پر عمل پیرا ہوں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایات سے سرتابی کرکے اپنے لئے دوزخ نہ خریدیں، (اکثر شریف گھرانوں میں یہی ہوتا ہے)۔ دُوسری صورت یہ ہے کہ اگر والدین اپنی خودغرضی کی وجہ سے اِنصاف دینے پر آمادہ نہ ہوں، تو اس کے سوا اور کیا مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا معاملہ بارگاہِ اِلٰہی میں پیش کرے۔ شیخ سعدیؒ نے ایک طویل قصہ لکھا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بادشاہ بیمار ہوا اور اطباء نے تجویز کیا کہ اگر ان صفات کے بچے کا فلاں عضو اِستعمال کیا جائے تو بادشاہ کو شفا ہوسکتی ہے، اس کے سوا کوئی علاج نہیں۔ چنانچہ شاہی حکم پر ان صفات کا بچہ تلاش کیا گیا اور بہت سے اِنعامات کا لالچ دے کر، بچے کو والدین سے خرید لیا گیا۔ علمائے شرع سے فتویٰ پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بادشاہ کی قیمتی جان بچانے کے لئے رعایا کے ایک بچے کا خون جائز ہے۔ بچے کو بادشاہ کے سامنے لایا گیا تو وہ ہنس پڑا، بادشاہ نے بچے سے ہنسنے کی وجہ پوچھی، تو بچے نے کہا کہ: بادشاہ سلامت! بچے کی حفاظت والدین کیا کرتے ہیں، لیکن میرے والدین نے مجھے دُنیوی مال ومقام کے لالچ میں فروخت کردیا ہے۔ پھر علمائے شرع سے اِنصاف کی توقع کی جاتی ہے، علماء نے بادشاہ کی جان بچانے کے لئے میرے قتل کا فتویٰ دے دیا ہے، اِنصاف کی آخری اُمید بارگاہِ سلطانی سے کی جاتی ہے، مگر بادشاہ اپنی جان کی بقا، میری ہلاکت میں سمجھتا ہے۔ اب صرف احکم الحاکمین کی بارگاہ باقی رہ گئی۔ میں یہ سوچ کر ہنسا کہ کیا اللہ تعالیٰ اس حالت میں بھی جبکہ میرے تمام سہارے ٹوٹ چکے ہیں، مجھے ہلاکت سے بچا سکتے ہیں؟ بادشاہ اس بچے کی بات سے بہت متأثر ہوا اور اس نے کہا کہ: میں مروں یا جیوں، مگر اس بچے کو قربان نہ کیا جائے۔ بادشاہ نے اس بچے کو اِنعام واِکرام کے ساتھ رہا کردیا اور اللہ تعالیٰ کی شان کہ بادشاہ کو اس بیماری سے فوراً شفا ہوگئی۔(۵)
۵:۔ میں نے کب کہا ہے کہ وہ اپنا حق اِستعمال نہیں کرسکتی؟ یا اس کو نہیں کرنا چاہئے؟ اگر وہ یہ حق اِستعمال کرنے کی ہمت رکھتی ہے تو اُسے ضرور یہ حق اِستعمال کرنا چاہئے۔
۶:۔ اچھا رِشتہ اگر برادری سے باہر ملتا ہے تو اسی کو اِختیار کرنا چاہئے،(۶) اور لڑکی کی پسند وناپسند کا لحاظ رکھنا تو جیسا کہ اُوپر لکھ چکا ہوں، ضروری ہے۔ لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی کرنے والے ظالم اور خائن ہیں۔(۷) بہت سے لوگ لڑکوں کی شادی میں اس کی پسند وناپسند کا لحاظ نہیں رکھتے، یہ بھی زیادتی ہے۔ اسلام کی تعلیم کا خلاصہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لئے بہتر سے بہتر رِشتہ تلاش کریں، اور اولاد کی برخورداری یہ ہے کہ والدین کی تجویز کو اپنی تجویز پر ترجیح دیں، لیکن یہ اس صورت میں ہے جبکہ والدین نے ذاتی اغراض ومفادات سے بالاتر ہوکر اولاد کے لئے رشتہ تجویز کیا ہو۔
۷:۔ لڑکیوں کا ولی تو شریعت نے باپ کو بنایا ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے کہ: ’’عورتوں سے ان کی بیٹیوں کا رِشتہ طے کرنے میں مشورہ لیا کرو‘‘ (ابوداؤد ص:۲۸۵)۔(۸) اس لئے کسی لڑکی کا رشتہ طے کرتے ہوئے اس کی ماں کو بالکل نظراَنداز کردینا شریعت کے خلاف ہے۔ عورتوں کو اپنی بیٹیوں کے وہ حالات معلوم ہوتے ہیں جو اُن کے باپ کو معلوم نہیں ہوتے، اور وہ ان کی پسند وناپسند کے علاوہ اپنی بیٹی کے مزاج سے بھی واقف ہوتی ہیں، ان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ میری بیٹی کا نبھاؤ ہوسکتا ہے، اور ایسے شخص سے نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ان سے مشورہ لینے کا حکم فرمایا گیا ہے۔(۹)
- (۱) عن أبی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تنکح الثیب حتّٰی تستأمر، ولَا البکر إلّا بإذنھا، قالوا: یا رسول اللہ! وما إذنھا؟ قال: إن سکتت۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تستأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۵، کتاب النکاح، باب فی الْإستئمار، طبع ایچ ایم سعید)۔ لَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ۔ (الھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۴، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔ أیضًا: ولَا تجبر بکر بالغۃ علی النکاح أی لَا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا عندنا۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۸، طبع بیروت، أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷ تا ۲۷۹، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔
- (۲)ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢۔
- (۳) فاتقوا اللہ فی النساء! فإنکم أخذتموھنّ بأمانۃ اللہ واستحللتم فروجھن بکلمۃ اللہ ۔۔۔إلخ۔ (أبو داوٗد ج:۱ ص:۲۶۳، کتاب المناسک، باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۴) ۔۔۔ واستوصوا بالنساء خیرًا! فإنھنّ خلقن من ضلع وإن أعوج شیء فی الضلع أعلاہ فإن ذھبت تقیمہ کسرتہ، وإن ترکتہ لم یزل أعوج، فاستوصوا بالنساء خیرًا! (بخاری، باب الوصاۃ بالنساء ج:۲ ص:۷۷۹، طبع نور محمد کراچی)۔
- (۵) باب اوّل حکایت:۲۳، گلستان سعدی۔
- (۶) وفی شرح السُّنَّۃ روی أن رجلًا جآء إلی الحسن وقال: إن لی بنتًا وقد خطبھا غیر واحد، فمن تشیر علٰی أن أزوجھا؟ قال: زوجھا رجلًا یتقی اللہ، فإنہ إن أحبھا أکرمھا، وإن أبغضھا لم یظلمھا۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۳ ص:۴۰۳، طبع بمبئی)۔
- (۷) عن أبی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تنکح الثیب حتّٰی تستأمر، ولَا البکر إلّا بإذنھا، قالوا: یا رسول اللہ! وما إذنھا؟ قال: إن سکتت۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تستأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۵، کتاب النکاح، باب فی الْإستئمار، طبع ایچ ایم سعید)۔ لَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ۔ (الھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۴ ، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔ أیضًا: ولَا تجبر بکر بالغۃ علی النکاح أی لَا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا عندنا۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۸، طبع بیروت، أیضا: شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷ تا ۲۷۹، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔ وأیضًا: والسُّنَّۃ أن یستأمر البکر ولیھا قبل النکاح۔۔۔ وإن زوجھا بغیر إستئمار فقد أخطأ السُّنَّۃ وتوف علٰی رضاھا، وھو محمل النھی فی حدیث مسلم لَا تنکح الأیم حتّٰی تستأمر ولَا تنکح البکر حتّٰی تستأذن ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۱، باب الأولیاء والأکفاء، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
- (۸) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أمروا النساء فی بناتھنّ۔ (أبو داوٗد ج:۱ ص:۲۸۵)۔
- (۹) أی شاوروھن وذالک من جھۃ إستطابۃ أنفسھنّ، وھو ادعی للألفۃ وخوفًا من وقوع الفتنۃ والوحشۃ بینھما إذا لم یکن برضاء الأم، إذا البنات إلی الأمھات أمیل، وفی سماع قولھنّ أرعب ربما علمت من حال إبنتھا المنافی عن أبیھا أمرًا لَا یصلح معہ النکاح من علۃ تکون بھا أو سبب یمنع من وفاء حقوق النکاح۔ (حاشیۃ نمبر۵، سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۵، أیضًا جامع الأصول ج:۱۱ ص:۴۶۵ شرح الغریب)۔

