شادیکونکرےاورکسسے؟
جسجگہلڑکیراضینہہو،کیااُسجگہوالدیناُسکارشتہکرسکتےہیں؟
سوال:۔
اگر لڑکی کا کہیں سے رشتہ آئے اور والدین اس کی شادی وہاں کرنا چاہتے ہیں، جبکہ لڑکی اس کے لئے تیار نہ ہو، اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ خوش نہیں رہ سکتی، تو وہ والدین سے اِنکار کرنے کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟ دُوسری صورت میں کوئی ایسا رشتہ آئے جو لڑکی کو پسند ہے، اور وہ لڑکی کے معیار کا ہو، تو کیا لڑکی یہ کہہ سکتی ہے کہ مجھے یہ رشتہ منظور ہے؟ اس صورت میں والدین پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
جواب:۔
بالغ لڑکی کا عقد اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتا،(۱) اس لئے لڑکی اپنی پسند وناپسند کا اِظہار کرسکتی ہے، اور اِظہار کی ضرورت ہو تو اسے کرنا چاہئے۔
- (۱) لَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح، فإذا استأذنھا الولی فسکتت أو ضحکت فھو إذن۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۴)۔ ولَا یجوز نکاح أحد بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالگمیری، کتاب النکاح ج:۱ ص:۲۸۷)۔ قال أبو جعفر: ولَا ینبغی للرجل أن یزوج ابنتہ البکر البالغ الصحیحۃ العقل حتّٰی یستأذنھا، فإن سکتت کان ذالک کإذنھا بالقول، وإن أبت لم یجز تزویجہ إیاہ، قال أحمد: یُحتج فیہ من جھۃ الظاھر بقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ ﵞ۔۔۔ ومن جھۃ السُّنَّۃ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُستَأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا، ومعلوم أن المراد بالیتیمۃ فی ھٰذا الموضع البکر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷، ۲۷۸، طبع بیروت)۔

