شادیکونکرےاورکسسے؟
لڑکے،لڑکیکیاِجازتکےبغیرنکاحکیحیثیت
سوال:۔
ہمارے گاؤں کا یہ ایک عام دستور ہے کہ جب کوئی رشتہ طے ہوتا ہے تو اس سلسلے میں لڑکے اور لڑکی کے رضامند ہونے کا لحاظ کوئی نہیں رکھتا، بلکہ والدین خود ہی جہاں چاہتے ہیں، اپنی مرضی سے رشتہ طے کرلیتے ہیں۔ اور اسی طرح زبردستی نکاح کروادیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
جواب:۔
لڑکے اور لڑکی کی رضامندی ضرور معلوم کرنی چاہئے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں بچے والدین پر اِعتماد کرتے ہیں اور والدین زندگی کے نشیب وفراز کو بچوں کی نسبت زیادہ سمجھتے ہیں، اس لئے بچوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، لیکن جہاں والدین کو بچوں پر، اور بچوں کو والدین پر اِعتماد نہ ہو، وہاں بچوں کی رائے ضرور لینی چاہئے۔(۱)
- (۱) ولَا یجوز نکاح أحد بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالگمیری، کتاب النکاح ج:۱ ص:۲۸۷)۔ قال أبو جعفر: ولَا ینبغی للرجل أن یزوج ابنتہ البکر البالغ الصحیحۃ العقل حتّٰی یستأذنھا، فإن سکتت کان ذالک کإذنھا بالقول، وإن أبت لم یجز تزویجہ إیاہ، قال أحمد: یُحتج فیہ من جھۃ الظاھر بقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ ﵞ۔۔۔ ومن جھۃ السُّنَّۃ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُستَأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا، ومعلوم أن المراد بالیتیمۃ فی ھٰذا الموضع البکر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷، ۲۷۸، طبع بیروت)۔

