شادیکونکرےاورکسسے؟
والدکےپسندکردہرِشتےکواگربیٹانہمانےتوکیاحکمہے؟
سوال:۔
ایک باپ اپنے لڑکے کی شادی اپنی پسند سے کرنا چاہتا ہے، جبکہ لڑکا چاہتا ہے کہ اس کی شادی دُوسری جگہ ہو، لڑکا مسلسل اِنکار کرتا ہے اور اس جگہ شادی نہ کرنے کی قسم بھی کھا رکھی ہے۔ کیا اِنکار کرنے سے لڑکا گناہگار تو نہیں ہوگا؟ باپ کہتا ہے: والدین کی ہر بات اولاد کو ماننی چاہئے۔ جبکہ لڑکا کہتا ہے: زندگی مجھے گزارنی ہے اور اِسلام میں اولاد کے بھی حقوق ہیں، نہ کہ صرف والدین کے۔
جواب:۔
اس قسم کے معاملات میں باپ کو بھی اولاد کی رضامندی ملحوظ رکھنی چاہئے۔(۱)
- (۱) ولَا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح۔۔۔ ولَا الحر البالغ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۳ ص:۵۸، أیضًا عالمگیری، کتاب النکاح ج:۱ ص:۲۸۷۔ أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷ تا ۲۷۹، طبع بیروت)۔

