بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

شادی‌کے‌وقت‌لڑکے‌کی‌طرح‌لڑکی‌کی‌بھی‌رضامندی‌معلوم‌کرنی‌چاہئے

سوال:۔

آج کل لوگ اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں تو لڑکوں سے تو ان کی مرضی اور پسند ضرور پوچھی جاتی ہے، لیکن لڑکی سے اس سلسلے میں بالکل بھی کچھ نہیں پوچھا جاتا، لڑکا اگر دس جگہ سے اِنکار کردیتا ہے تو کوئی بات نہیں، اس کے لئے تلاش جاری رہتی ہے۔ جبکہ لڑکی کی شادی جہاں جو چاہتا ہے کردی جاتی ہے، اس سے اس کی مرضی بالکل بھی نہیں پوچھی جاتی۔ اور یہ بات میں نے ان گھرانوں میں زیادہ دیکھی ہے جو نماز روزے کے پابند ہوتے ہیں، اور نہایت دِین دار ہوتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ دِین سے بالکل دُور ہیں، وہ باقاعدہ لڑکی سے بھی اسی طرح مرضی معلوم کرتے ہیں، جس طرح کہ لڑکے سے معلوم کی جاتی ہے۔ اس طرح جو لڑکی بیچاری ساری عمر نماز روزے کی پابند رہتی ہے اور اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزارتی ہے تو جب اس سے بغیر پوچھے اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا جاتا ہے تو وہ یہ ضرور سوچتی ہے کہ کیا ہمارا مذہب ایسا ہی ہے کہ ہمیں ہمارا حق بھی نہ دیا جائے؟ تو مولانا صاحب! یہ بات بتائیں کہ جو ماںباپ ایسا کرتے ہیں، کیا وہ ٹھیک کرتے ہیں؟ اور ایک لڑکی کی شادی اگر اس کی مرضی پوچھے بغیر کہیں کردی جائے اور ذہنی طور پر وہ اپنے آپ کو وہاں سیٹ نہ کرسکے تو اس طرح جو اس کی زندگی تباہ ہوگی، تو اس کا گناہ کس پر ہوگا؟

جواب:۔

جس طرح شادی کے سلسلے میں لڑکے کی رائے معلوم کی جاتی ہے، اسی طرح لڑکی کی رائے بھی ضرور معلوم کرنی چاہئے، یہ اللہ تعالیٰ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ اس لئے جو لوگ لڑکی کی رضامندی کو نظراَنداز کرتے ہیں، وہ گناہگار ہیں۔ ایک اِعتبار سے لڑکی کی رضامندی لڑکے سے بھی زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اگر بیوی، شوہر کے مزاج کے مطابق نہ ہو تو شوہر طلاق دے کر بھی اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے، جبکہ لڑکی کو خلع لینے کے لئے عدالت میں جانا ہوگا، جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ بہرحال لڑکی کی رضامندی کے بغیر اس کو رِشتۂ اِزدواج میں باندھ دینا گناہ ہے۔(۱)

  1. (۱) ولَا یجوز نکاح أحد بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیبًا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالگمیری، کتاب النکاح ج:۱ ص:۲۸۷)۔ قال أبو جعفر: ولَا ینبغی للرجل أن یزوج ابنتہ البکر البالغ الصحیحۃ العقل حتّٰی یستأذنھا، فإن سکتت کان ذالک کإذنھا بالقول، وإن أبت لم یجز تزویجہ إیاہ، قال أحمد: یُحتج فیہ من جھۃ الظاھر بقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ ﵞ۔۔۔ ومن جھۃ السُّنَّۃ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُستَأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا، ومعلوم أن المراد بالیتیمۃ فی ھٰذا الموضع البکر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷، ۲۷۸، طبع بیروت)۔