شادیکونکرےاورکسسے؟
شادیمیںلڑکیکیرضامندی
سوال:۔
میری ایک بہن جس کا رِشتہ میری پھوپھی صاحبہ جو کہ بیوہ بھی ہیں، اپنے لڑکے کے لئے مانگ رہی ہیں۔ میرے والد صاحب نے میری پھوپھی جب بیوہ ہوئیں اور گھر کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں تھا، ان کی دیکھ بھال کی، ان کی ایک لڑکی کی اپنے بھتیجے سے شادی کردی جو تاحال پھوپھی صاحبہ کے گھر ہی رہتا ہے، ماشاء اللہ ان کے پانچ بچے ہیں، لیکن پھوپھی صاحبہ کے ساتھ ہی رہتے ہیں، ان کا کھانا پینا مشترکہ ہے۔ پھوپھی صاحبہ کا ایک لڑکا، ایک لڑکی ہے، لیکن نہ اس بہن نے اس بھائی کے لئے سوچا، نہ بہنوئی نے اس کے لئے سوچا کہ اس کا بھی گھر بسے، اس کی شادی کا انہوں نے کبھی سوچا تک نہیں۔ میرے والد صاحب نے پھوپھی صاحبہ کے لڑکے کا ایک دو جگہ رِشتہ کیا، ایک لڑکی فوت ہوگئی، دُوسری کا رِشتہ ٹوٹ گیا۔ لڑکا سمجھ دار ہے، مزدوری کرکے اپنی ماں کا پیٹ پالتا ہے، لیکن ایک آنکھ سے قدرتی طور پر بچپن سے محروم ہے، جس کی وجہ سے کوئی لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی۔ اب اس صورتِ حال میں، میں نے اپنے والد صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ نے بچپن سے ان کی پروَرِش کی، میں اپنی چھوٹی بہن کا رِشتہ اس کو دینا چاہتا ہوں، والد صاحب مان گئے، لیکن اب میری بہن جو عمر میں اس سے سات یا آٹھ سال چھوٹی ہیں، اس رِشتے سے راضی نہیں ہیں۔ میری بہن نے کہا کہ آج میری امی زِندہ ہوتیں تو وہ کبھی یہ فیصلہ نہ کرتیں جو بھائی او رباپ کر رہے ہیں، اگر آپ زبردستی اس سے کردیں گے تو قیامت میں آپ کو اس نااِنصافی کا حساب دینا ہوگا۔ مولانا صاحب! میں نے یہ فیصلہ بیوہ اور یتیم کو سامنے رکھ کر کیا، پھر میری کوشش ہے کہ میں اس یتیم لڑکے اور اپنی بہن کی دیکھ بھال بھی خود کروں گا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت اچھا فیصلہ کیا، لڑکی کی عقل کم ہوتی ہے، وہ بعد میں ٹھیک ہوجائے گی۔ کچھ کہتے ہیں کہ لڑکی کی رضامندی اوّل شرط ہے۔ مولانا صاحب! قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں کہ کیا ایسی صورتِ حال میں لڑکی کی رضامندی لازمی ہے؟ کیا واقعی میرا اور والد صاحب کا فیصلہ میری بہن کے ساتھ نااِنصافی ہے؟ کیا واقعی اس بارے میں بازپُرس ہوگی؟ کیا واقعی خدا کے سامنے مندرجہ بالا حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی یہ نااِنصافی ہے؟ شاید آپ کے جواب سے کوئی بہتری نکل آئے اور میری بہن بھی مطمئن ہوجائے؟
جواب:۔
آپ کا جذبہ بہت اچھا ہے، اور والد صاحب کا فیصلہ بھی بجا ہے، لیکن رِشتہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر نہ کیا جائے،(۱) البتہ آپ لوگ لڑکی کو اُونچ نیچ سمجھاکر اور اس کا اَجر وثواب بتاکر راضی کرلیں تو ٹھیک ہے، بہت اچھی بات ہے، لیکن اگر لڑکی دِلی طور پر رضامند نہ ہو تو آپ زبردستی نہ کریں، اگر زبردستی کریں گے تو بلاشبہ بازپُرس ہوگی۔
- (۱) لَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح۔ (ھدایۃ، کتاب النکاح ج:۲ ص:۳۱۴)۔ قال أبو جعفر: ولَا ینبغی للرجل أن یزوج ابنتہ البکر البالغ الصحیحۃ العقل حتّٰی یستأذنھا، فإن سکتت کان ذالک إذنھا بالقول، وإن أبت لم یجز تزویجہ إیاہ۔۔۔ ومن جھۃ السُّنَّۃ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تستأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا، وإن أبت فلا جواز علیھا، ومعلوم أن المراد بالیتیمۃ فی ھٰذا الموضع البکر، لِإتفاق الجمیع علٰی أن السکوت لَا یکون إذنًا إلّا فی البکر خاصۃً۔ (شرح مختصر الطحاوی للجصاص الرازی ج:۴ ص:۲۷۷،۲۷۸، کتاب النکاح)۔

