بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شادی‌کون‌کرے‌اور‌کس‌سے؟

کیا‌لڑکوں‌کی‌طرح‌لڑکی‌کی‌رضامندی‌ضروری‌نہیں؟

سوال:۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کردیتے ہیں، لڑکی کی رضامندی کو ضروری نہیں سمجھتے، جبکہ لڑکوں کی رضامندی کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے، حالانکہ ہمارے مذہب میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ میرے خیال میں لڑکی کی رضامندی اَشد ضروری ہے، کیونکہ گھر عورت ہی سے بنتا ہے۔ آپ ان سوالوں کے جواب شرعی نقطۂ نظر سے دیں۔

جواب:۔

لڑکی کی رضامندی معلوم کرنا اور اس کا لحاظ رکھنا بڑا ضروری ہے، اگرچہ عموماً شریف خاندانوں کی بچیاں اپنے والدین پر اِعتماد کیا کرتی ہیں، کیونکہ والدین اپنی بچی کے لئے بہتر رِشتے کا اِنتخاب کرنا چاہتے ہیں، تاہم لڑکی کا رُجحان ضرور معلوم کرنا چاہئے۔(۱)

  1. (۱) قال أبو جعفر: ولَا ینبغی للرجل أن یزوج ابنتہ البکر البالغ الصحیحۃ العقل حتّٰی یستأذنھا، فإن سکتت کان ذالک إذنھا بالقول، وإن أبت لم یجز تزویجہ إیاہ۔۔۔ ومن جھۃ السُّنَّۃ۔۔۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُستأمر الیتیمۃ فی نفسھا، فإن سکتت فھو إذنھا وإن أبت فلا جواز علیھا ومعلوم أن المراد بالیتیمۃ فی ھٰذا الموضع البکر، لِإتفاق الجمیع علٰی أن السکوت لَا یکون إذنًا إلّا فی البکر خاصۃ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۷۷،۲۷۸، کتاب النکاح، طبع دار البشائر الْإسلامیۃ بیروت)۔