شادیکونکرےاورکسسے؟
نکاحکرناکبفرض،واجباورکبحرامہے؟
سوال:۔
مسلمان مرد اور عورت پر کتنی عمر میں شادی کرنی واجب ہے؟ میں نے سنا ہے کہ لڑکی کی عمر ۱۶ سال ہو اور لڑکے کی عمر ۲۵ سال تو اس وقت ان کی شادی کرنی چاہئے۔
جواب:۔
شرعاً شادی کی کوئی عمر مقرّر نہیں، والدین بچے کا نکاح نابالغی میں بھی کرسکتے ہیں،(۱) اور بالغ ہوجانے کے بعد اگر شادی کے بغیر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو شادی کرنا واجب ہے، ورنہ کسی وقت بھی واجب نہیں، البتہ ماحول کی گندگی سے پاکدامن رہنے کے لئے شادی کرنا افضل ہے۔(۲)
در مختار وغیرہ میں لکھا ہے کہ اگر نکاح کے بغیر گناہ میں مبتلا ہونے کا یقین ہو تو نکاح فرض ہے، اگر غالب گمان ہو تو نکاح واجب ہے (بشرطیکہ مہر اور نان و نفقہ پر قادر ہو)، اگر یقین ہو کہ نکاح کرکے ظلم و ناانصافی کرے گا تو نکاح کرنا حرام ہے، اور اگر ظلم و ناانصافی کا غالب گمان ہو تو نکاح کرنا مکروہِ تحریمی ہے، اور معتدل حالات میں سنتِ مؤکدہ ہے۔(۳)
- (۱) وللولی۔۔۔ إنکاح الصغیر والصغیرۃ جبرًا ولو ثیبًا۔۔۔ ولزم النکاح ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۳ ص:۶۶ طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔ أیضًا: قال أبو جعفر: ولسائر الأولیاء تزویج الصغار ویتوارثان بذالک۔ قال أحمد: أما الأب والجد فلا خلاف بین فقھاء الأمصار فی أن لھما أن یزوجا الصغار، إلّا شیء یُحکی عن عثمان البتِّی۔۔۔ ودلیل الکتاب یقضی ببطلانہ وھو قولہ تعالٰی: ﵟ وَٱلَّٰٓـِٔي يَئِسۡنَ مِنَ ٱلۡمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمۡ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشۡهُرٖ وَٱلَّٰٓـِٔي لَمۡ يَحِضۡنَۚ ﵞ، فقضٰی بصحۃ طلاق الصغیرۃ، وأوجب العدۃ علیھا إذا کانت مدخولًا بھا، والطلاق لَا یقع إلّا فی عقد صحیح، ومن جھۃ السُّنَّۃ: أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوّج عائشۃ رضی اللہ عنھا وھی صغیرۃ، زوجَّھا أباہ أبوبکر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۹۲،۲۹۳، کتاب النکاح، طبع دار السراج)۔
- (۲) وأما صفتہ فھو أنہ فی حالۃ الْإعتدال سُنَّۃ مؤکّدۃ، وحالۃ التوقان واجب، وحالۃ خوف الجور مکروہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۷ طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔ أیضا: بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۲۸، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی۔
- (۳) (ویکون واجبًا عند التوقان) فإن تیقن الزنا إلّا بہ فُرض نھایۃ وھٰذا ان ملک المھر والنفقۃ، وإلّا فلا إثم بترکہ۔ بدائع (و) یکون (سنۃ) مؤکّدۃ فی الأصح (إلٰی قولہ) حال الْإعتدال۔۔۔ (ومکروھًا لخوف الجور) قال الشامی أی تحریمًا، فإن تیقنہ حرم ذٰلک۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب النکاح ج:۳ ص:۷)۔ أیضًا: بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۲۸، کتاب النکاح۔

