بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌میں‌کتنی‌قربانیاں‌کرنی‌ضروری‌ہیں؟

سوال:۔

۱: حجِ بدل کرنے والا اگر قربانی کرتا ہے تو ایک کرے یا دو؟ یعنی آمر اور مأمور دونوں کی طرف سے۔

سوال:۔

۲: ہم لوگ نفلی حجِ بدل کرتے ہیں، اس صورت میں قربانی کریں یا نہ کریں؟ اگر کریں تو کس طرح؟

سوال:۔

۳: جو لوگ پاکستان یا دیگر ملکوں سے آکر حجِ بدل کرتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں پھر اِحرام کھول کر دوبارہ حجِ تمتع کرتے ہیں، ان کے بارے میں تفصیل سے تحریر کریں۔

جواب:۔

حجِ بدل کرنے والے کو حجِ مفرَد یعنی صرف حج کا اِحرام باندھنا چاہئے، اور حجِ مفرَد میں حج کی وجہ سے قربانی نہیں ہوتی، اس لئے آمر کی طرف سے قربانی کی ضرورت نہیں، مامور اگر مقیم اور صاحبِ اِستطاعت ہو تو اپنی طرف سے (عام قربانی) کرے، اور مسافر اور غیر مستطیع پر عام قربانی واجب نہیں۔(۱)

جواب:۔

۲: اس کا مسئلہ بھی وہی ہے جو اُوپر لکھا گیا ہے۔

جواب:۔

۳: جیسا کہ اُوپر لکھا گیا، حجِ بدل کرنے والوں کو حجِ مفرَد یعنی صرف حج کا اِحرام باندھنا چاہئے، اگر وہ تمتع کریں (یعنی میقات سے صرف عمرہ کا اِحرام باندھیں اور عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد پھر ۸؍ذوالحجہ کو حج کا اِحرام باندھیں) تو تمتع کی قربانی خود ان کے مال سے لازم ہے، آمر کے مال سے نہیں، اِلَّا یہ کہ آمر نے اس کی اجازت دے دی ہو تو اس کے مال سے قربانی کرسکتے ہیں۔(۲)

  1. (۱) وأما الأضحیۃ فإن کان مسافرًا لَا تجب علیہ، وإلّا کان کالمکیّ فتجب علیہ۔ (الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید، کتاب الحج ج:۱ ص:۴۹۴)۔ یجب علی الغنی دون الفقیر ۔۔۔ شکرًا لنعمۃ الحیاۃ وإحیاء المیراث الخلیل حین أمرہ اللہ بذبح الکبش فی ھٰذہ الأیام کذا فی البدائع۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۲۹۲، کتاب الأضحیۃ، الباب الأوّل)۔
  2. (۲) ودم القِران والتمتع والجنایۃ علی الحاج إن أذن لہ الآمر بالقِران والتمتع وإلّا فیصیر مخالفًا فیضمن۔ (الدر المختار، باب الحج عن الغیر، مطلب العمل علی القیاس دون الْإستحسان ھنا، ج:۲ ص:۶۱۱ طبع سعید)۔ أیضًا قال: فإن أمرہ غیر أن یقرن عنہ فالدم علی من أحرم لأنہ وجب شکرًا بما وفّقہ اللہ تعالٰی من الجمع بین النسکین، والمأمور ھو المختص، لھٰذہ النعمۃ لأن حقیقۃ الفعل منہ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ج:۱ ص:۲۹۸)۔ أیضًا: ودم المتعۃ والقِران والجنایات علی المأمور، فأما دم المتعۃ والقرِان فلأنہ وجب شکرًا وفق لأداء النسکین وھو الذی حصلت لہ ھٰذہ النعمۃ، وأما دم الجنایات فلأنہ ھو الجانی ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الحنفی، الحج عن الغیر ج:۱ ص:۴۶۹ طبع بیروت)۔