حجِبدل
حجِبدلمیںقربانیلازمہےیانہیں؟
سوال:۔
حجِ بدل میں قربانی لازم ہے یا نہیں؟
جواب:۔
قربانی تمتع اور قران میں واجب ہوتی ہے، حجِ مفرَد میں قربانی لازم نہیں، کسی جنایت (غلطی) کی وجہ سے لازم ہوجائے تو دُوسری بات ہے۔(۱)
حج کی تین قسمیں ہیں: مفرَد، قران، تمتع۔
حجِ مفرَد:۔ حجِ مفرَد یہ ہے کہ میقات سے گزرتے وقت صرف حج کا اِحرام باندھا جائے، اس کے ساتھ عمرہ کا اِحرام نہ باندھا جائے، حج سے فارغ ہونے تک یہ اِحرام رہے گا۔(۲)
حجِ قران:۔ حجِ قران یہ ہے کہ میقات سے عمرہ اور حج دونوں کا اِحرام باندھا جائے، مکہ مکرّمہ پہنچ کر پہلے عمرہ کے ارکان ادا کئے جائیں، اس کے بعد حج کے ارکان ادا کرکے ۱۰؍ذوالحجہ کو رَمی اور قربانی سے فارغ ہوکر اِحرام کھولا جائے۔(۳)
حجِ تمتع:۔ حجِ تمتع یہ ہے کہ حج کے موسم میں میقات سے گزرتے وقت صرف عمرہ کا اِحرام باندھا جائے اور اس کے ارکان ادا کرکے اِحرام کھول دیا جائے۔ پھر ۸؍ذوالحجہ کو حج کا اِحرام باندھ کر حج کے ارکان ادا کئے جائیں اور ۱۰؍ذوالحجہ کو رَمی اور قربانی کے بعد حج کا اِحرام کھولا جائے۔(۴)
- (۱) خمسون شیئًا یوجب الدم علی المحرم ۔۔۔ دم التمتع، دم القِران، وھما دمان، دم لحجتہ ودم لعمرتہ۔ (خزانۃ الفقہ، کتاب الحج، ما یوجب الدم علی المحرِم ص:۹۳، ۹۴، طبع المکتبۃ الغفوریہ العاصمیہ)۔
- (۲) کیفیۃ الْإفراد: الْإفراد أن یحرم بالحج وحدہ ثم لَا یعتمر حتّٰی لَا یفرغ من حجہ ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ، کتاب الحج ج:۳ ص:۲۱۵ طبع دار الفکر)۔
- (۳) باب القِران ۔۔۔ قولہ: وصفۃ القِران أن یھل بالعمرۃ والحج معًا من المیقات، قدم العمرۃ لأن اللہ تعالٰی قدمھا بقولہ:ﵟ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ ﵞولأن أفعالھا متقدمۃ علٰی أفعال الحج۔ (الجوھرۃ النیرۃ، باب القِران ج:۱ ص:۱۶۷، طبع مجتبائی دھلی)۔ أیضًا: أما الْإحرام بحجۃ وعمرۃ، فھو أن یقول عند المیقات: اللّٰھم لبیک ۔۔۔ فیؤدی بھما جمیعًا بإحرام واحد، ثم یذبح شاۃ بعد الرمی من جمرۃ العقبۃ فی یوم النحر أو من یوم الغد۔ (خزانۃ الفقہ، کتاب المناسک والحج ص:۸۸)۔
- (۴) التمتع لغۃ الجمع بین العمرۃ والحج بإحرامین ۔۔۔ وھو أن یحرم بعمرۃ من المیقات أو قبلہ فی أشھر الحج ویطوف ۔۔۔ ویسعی ویحلق أو یقصر کالمفرد بالعمرۃ، ویقطع التلبیۃ فی أوّل طوافہ ۔۔۔ ثم یحرم بالحج من الحرم إن کان بمکۃ أو من الحل إن کان بالمواقیت ۔۔۔ یوم الترویۃ وحج کالمفرد ۔۔۔ وذبح بعد الرمی فی أیام النحر ۔۔۔إلخ۔ (جامع الرموز الروایۃ فی شرح مختصر الوقایۃ، کتاب الحج، ج:۲ ص:۴۱۸، طبع مکتبہ إسلامیہ گنبد قابوس إیران، وکذا فی فتح القدیر ج:۲ ص:۲۱۰، ۲۱۱، طبع دار صادر بیروت، وخزانۃ الفقہ ص:۸۹، طبع المکتبہ الغفوریہ العاصمیہ)۔

