بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌کوئی‌بھی‌کرسکتا‌ہے‌غریب‌ہو‌یا‌امیر

سوال:۔

حجِ بدل کا کیا طریقہ ہے؟ کون شخص حجِ بدل کے لئے جاسکتا ہے؟ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کو حجِ بدل پر نہیں بھیجنا چاہئے، کیونکہ غریب آدمی پر حج فرض ہی نہیں ہوتا تو حجِ بدل کے لئے بھی نہیں جاسکتا، امیر کا بھیجنا بہتر ہے یا غریب کا؟

جواب:۔

جس شخص نے اپنا حج نہیں کیا ہے، اس کو حجِ بدل کے لئے بھیجنے سے حجِ بدل ادا ہوجاتا ہے، لیکن ایسے شخص کو حجِ بدل پر بھیجنا مکروہ ہے،(۱) لہٰذا ایسے شخص کو بھیجا جائے جو پہلے حج کرچکا ہو، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، غریب یا امیر کی بحث اس مسئلے میں نہیں ہے۔

  1. (۱) (الجواب) یجوز لمن لم یکن حج عن نفسہ ان یحج عن غیرہ لٰـکنہ خلاف الأفضل ویسمّٰی حج الصرورۃ۔ (الفتاویٰ تنقیح الحامدیۃ، کتاب الحج ج:۱ ص:۱۳ طبع رشیدیہ)۔ وأیضًا: والذی یقتضیہ النظر أن حج الصرورۃ (الذی لم یحج عن نفسہ) عن غیرہ إن کان بعد تحقق الواجب علیہ بملک الزاد والراحلۃ والصّحّۃ، فھو مکروہ کراھۃ تحریم ۔۔۔ ومع ذٰلک یصح لأن النھی لیس لعین الحج ۔۔۔ قال فی البحر: والحق انھا تنزیھیۃ علی الآمر۔ (فتاویٰ شامی، کتاب الحج، مطلب فی حج الصرورۃ ج:۲ ص:۶۰۳، طبع سعید)۔