بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

اپنا‌حج‌نہ‌کرنے‌والے‌کا‌حجِ‌بدل‌پر‌جانا

سوال:۔

میرے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، اور ہم اپنے والد کا حجِ بدل کرانا چاہتے ہیں، ہم جس آدمی کو حجِ بدل کرانا چاہ رہے ہیں اس کی مالی حیثیت اتنی نہیں کہ وہ اپنا حج ادا کرسکے، کیا ہم اس شخص سے حجِ بدل کراسکتے ہیں جس نے اپنا حج نہیں کیا؟ یا حجِ بدل کے لئے پہلے اپنا حج کرنا لازم ہے؟ یا کوئی اور صورت ہو حجِ بدل کرانے کی؟ اس کا تفصیلی جواب دیں۔

سوال:۔

دو بھائی ہیں جن کے والد کا انتقال ہوگیا ہے، دونوں بھائی الگ الگ اپنے گھر میں فیملی کے ساتھ رہتے ہیں، جن میں ایک بھائی امیر ہے اور دُوسرا بھائی بہت غریب ہے۔ چھوٹا بھائی جو کہ امیر ہے اپنی والدہ (ماں) کے ساتھ حج کرچکا ہے، اب وہ اپنے مرحوم والد کے نام کا حجِ بدل کروانا چاہتا ہے، بڑا بھائی چونکہ غریب ہے اور اس نے ایک بار بھی حج نہیں کیا ہے، چھوٹا بھائی اپنے پیسے (رقم) سے اپنے بڑے بھائی کو مرحوم والد کے نام سے حجِ بدل پر بھیجنا چاہتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ بڑا بھائی جس نے خود ابھی تک حج نہیں کیا ہے، اس کے باوجود وہ دُوسرے کے نام پر حجِ بدل کرسکتا ہے؟

سوال:۔

دُوسروں کے پیسے (رقم) سے حجِ بدل کیا جاسکتا ہے؟

سوال:۔

بڑا بھائی جو کہ حجِ بدل کرکے واپس آئے، وہ ’’حاجی‘‘ کہلائے گا؟

جواب:۔

جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو اس کا حجِ بدل پر جانا مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اَوْلیٰ ہے، تاہم اگر چلا جائے تو حجِ بدل ادا ہوجائے گا۔(۱)

جواب:۔

جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کا حجِ بدل پر بھیجنا مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اَوْلیٰ ہے۔(۲)

جواب:۔

وہ حجِ بدل جو بغیر وصیتِ میّت کے ہو جس کو عوام ’’حجِ بدل‘‘ کہتے ہیں جیسے کہ سوال میں مذکور ہے، دُوسروں کے پیسے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

جواب:۔

جی ہاں! اپنے حج کے بغیر ’’حاجی‘‘ کہلائے گا۔

  1. (۱) (الجواب) یجوز لمن لم یکن حج عن نفسہ ان یحج عن غیرہ لٰـکنہ خلاف الأفضل ویسمّٰی حج الصرورۃ۔ (الفتاویٰ تنقیح الحامدیۃ، کتاب الحج ج:۱ ص:۱۳ طبع رشیدیہ)۔ وأیضًا: والذی یقتضیہ النظر أن حج الصرورۃ (الذی لم یحج عن نفسہ) عن غیرہ إن کان بعد تحقق الواجب علیہ بملک الزاد والراحلۃ والصّحّۃ، فھو مکروہ کراھۃ تحریم ۔۔۔ ومع ذٰلک یصح لأن النھی لیس لعین الحج ۔۔۔ قال فی البحر: والحق انھا تنزیھیۃ علی الآمر۔ (فتاویٰ شامی، کتاب الحج، مطلب فی حج الصرورۃ ج:۲ ص:۶۰۳، طبع سعید)۔
  2. (۲)ولو أحج عنہ إمرأۃً أو عبدًا أو أمَۃ بإذن السیّد جاز ویکرہ، ھٰکذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۷، کتاب الحج، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔