حجِبدل
کیاحجِبدلاِفرادہیکیاجاسکتاہے؟
سوال:۔
میں نے سنا ہے کہ حجِ بدل صرف ’’اِفراد‘‘ ہی کیا جاسکتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
میں نے اور میرے بھائی نے حجِ بدل کیا ہے، ہمارے تایا صاحب تھے، ان کی وفات کے بعد میں نے ان کے لئے حج کیا، ان پر حج فرض نہیں تھا، انہوں نے نہ عمرہ کیا تھا، اور نہ وصیت کی تھی، میں نے اپنی طرف سے حج کیا اور وہ بھی قران۔
والدہ صاحبہ نے اپنی زندگی میں کئی حج کئے تھے، ان کی وفات کے بعد ہم نے ان کے لئے حج کیا، بغیر ان کی وصیت کے، اور قران کیا۔ یاد رہے کہ ہم اپنا حج پہلے کرچکے ہیں، کیا ہمارا حج ان کے لئے ہوگیا؟ جواب ضرور مرحمت فرمائیں۔
جواب:۔
آپ نے تایا کی جانب سے اور والدہ کی جانب سے جو حجِ بدل کیا وہ صحیح ہے، کیونکہ ان دونوں پر حج فرض نہیں تھا، گویا یہ نفلی حج ہوا، اور نفلی حج کے لئے وہ شرائط نہیں جو حجِ بدل کے لئے ضروری ہیں۔(۱)
- (۱) وھٰذہ الشرائط کلھا فی الحج الفرض وأما النفل فلا یشترط فیہ شیء منھا إلّا الْإسلام والعقل والتمیز۔ (حاشیۃ رد المحتار ج:۲ ص:۶۰۱)۔ وإن کانت (أی العبادۃ المرکبۃ منھما) نافلۃ کحج النفل وعمرۃ التطوع تجزیٔ فی الحالتین، ولَا یشترط فیہ العجز، ولَا غیرہ مما یشترط فی حج الفرض، وعمرۃ الْإسلام إلّا أھلیۃ النائب بالْإسلام والعقل والتمیز والنیۃ عنہ فی الْإحرام إن أمرہ بالحج۔ (غنیۃ الناسک، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ص:۳۲۰)۔

