بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

اپنا‌حج‌نہ‌کرنے‌والے‌کا‌حجِ‌بدل‌کرنا،‌حجِ‌بدل‌کے‌بعد‌دُوسرے‌حج‌کی‌فرضیت

سوال:۔

میرے والد محترم کا کچھ عرصہ پہلے اِنتقال ہوا تھا، مرحوم کو حج کرنے کی بڑی تڑپ تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی آمدنی سے کچھ حصہ نکال کر رکھ دیتے تھے کہ میں حج کرنے جاؤں گا، مگر موت نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ آخری خواہش بھی میرے والد مرحوم کی یہی تھی۔ ہم بھائیوں نے مشورہ کیا کہ والد صاحب کی خواہش کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کی جمع شدہ رقم سے ان کے لئے حجِ بدل کریں۔ میری والدہ ماجدہ بھی حج کے لئے تیار ہوگئیں، اب ان کے ساتھ محرَم کا جانا بھی ضروری ہے۔ ہمارے خاندان میں والدہ کے محرَم اَفراد میں کوئی بھی حاجی نہیں ہے، اب میں اپنے والد صاحب کے حجِ بدل کے طور پر والدہ کے ساتھ حج پر جانا چاہتا ہوں، اب مسائل یہ ہیں کہ:

۱:۔ میں پہلے حاجی نہیں ہوں، تو کیا حجِ بدل کرسکتا ہوں؟

۲:۔ حجِ بدل کے بعد میرے لئے دُوسرے حج کی فرضیت ہوگی یا نہیں؟

۳:۔ نیز میرے والد مرحوم کی پھوپھی زاد بہن جن کی عمر تقریباً ۶۵ سال کے قریب ہے، وہ بھی میرے ساتھ حج پر جانا چاہتی ہیں، کیا وہ میرے ساتھ حج پر جاسکتی ہیں؟ ان کے ساتھ میرا رشتہ محرَم کا ہوگا یا نامحرَم کا؟

جواب:۔

جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کا حجِ بدل پر جانا مکروہ ہے، لیکن اگر آپ چلے جائیں گے تو آپ کے والد ماجد کا حج ادا ہوجائے گا۔(۱)

۲:۔ آپ کا حج آپ کے ذمے رہے گا، بشرطیکہ آپ کے پاس اتنا سرمایہ ہو کہ آپ حج پر جاسکیں۔(۲)

۳:۔ آپ کی والدہ آپ کے ساتھ حج پر جاسکتی ہیں، لیکن آپ کے والد کی پھوپھی زاد آپ کے ساتھ حج پر نہیں جاسکتیں، کیونکہ وہ آپ کی محرَم نہیں ہیں،(۳) واللہ اعلم!

  1. (۱) والأفضل للإنسان إذا أراد أن یحج رجلًا عن نفسہ أن یحج رجلًا قد حج عن نفسہ ومع ھٰذا لو أحج رجلًا لم یحج عن نفسہ حجۃ الْإسلام یجوز عندنا وسقط الحج عن الآمر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۷، کتاب المناسک)
  2. (۲) إتفقوا أنّ الفرض یسقط عن الآمر ولَا یسقط عن المأمور۔ (بحر الرائق ج:۳ ص:۶۶، ۶۷، باب الحج عن الغیر)۔ منھا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ سواء کان بطریق الملک أو الْإجارۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷)۔
  3. (۳) عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تحجن امرأۃ إلّا ومعھا محرَم۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۱۲۳)۔