بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

جس‌نے‌اپنا‌حج‌نہ‌کیا‌ہو،‌اُسے‌حجِ‌بدل‌پر‌بھیجنا‌مکروہ‌ہے

سوال:۔

دو بھائی ہیں، جن کے والد کا اِنتقال ہوگیا ہے، دونوں بھائی الگ الگ اپنے گھر میں فیملی کے ساتھ رہتے ہیں، جن میں ایک بھائی امیر ہے، اور دُوسرا بھائی بہت غریب ہے۔ چھوٹا بھائی جو کہ امیر ہے اپنی والدہ کے ساتھ حج کرچکا ہے، اب وہ اپنے مرحوم والد کے نام کا بدل حج کروانا چاہتا ہے، بڑا بھائی چونکہ غریب ہے اور اس نے ایک بار بھی حج نہیں کیا ہے، چھوٹا بھائی اپنے پیسے (رقم) سے اپنے بڑے بھائی کو مرحوم والد کے نام سے حجِ بدل پر بھیجنا چاہتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ بڑا بھائی جس نے خود اَبھی تک حج نہیں کیا ہے، اس کے باوجود وہ دُوسرے کے نام کا بدل حج کرسکتا ہے؟

جواب:۔

جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کا حجِ بدل پر بھیجنا مکروہ ہے۔(۱)

  1. (۱) الأفضل إحجاج الحر العالم بالمناسک الذی حج عن نفسہ وذکر فی البدائع کراھۃ إحجاج الصرورۃ لأنّہ تارک فرض الحج۔ (حاشیۃ رد المحتار ج:۲ ص:۶۰۳)۔ إذا أراد أن یحج رجلًا عن نفسہ أن یحج رجلًا قد حج عن نفسہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۷، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر)۔