بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

ایسی‌عورت‌کا‌حجِ‌بدل‌جس‌پر‌حج‌فرض‌نہیں‌تھا

سوال:۔

میری پھوپھی مرحومہ (جنھوں نے مجھے ماں بن کر پالا تھا اور ان کا کوئی حق میں ادا نہ کرسکا، کیونکہ جب اس قابل ہوا تو وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں) کے مالی حالات اور دیگر حالات کی بنا پر ان پر حج فرض نہیں تھا، کیا میں ان کے ایصالِ ثواب کے لئے ان کی طرف سے کسی خاتون کو ہی حجِ بدل کرواسکتا ہوں؟ کیا یہ حج کوئی مرد بھی کرسکتا ہے؟

جواب:۔

آپ مرحومہ کی طرف سے حجِ بدل کراسکتے ہیں، مگر چونکہ آپ کی پھوپھی پر حج فرض نہیں تھا، نہ ان کی طرف سے وصیت تھی، اس لئے ان کی طرف سے آپ جو حج کرائیں گے وہ نفل ہوگا۔(۱)

۲:۔ کسی خاتون کی طرف سے حجِ بدل کرانا ہو تو ضروری نہیں کہ کوئی خاتون ہی حجِ بدل کرے۔ عورت کی طرف سے مرد بھی حجِ بدل کرسکتا ہے اور مرد کی طرف سے عورت بھی کرسکتی ہے، مگر کسی خاتون کو حجِ بدل کے لئے بھیجنا بہتر نہیں۔(۲)

  1. (۱) وإن کانت (أی العبادۃ المرکبۃ) نافلۃ کحج النفل وعمرۃ التطوع تجزیٔ فی الحالتین، ولَا یشترط فیہ العجز، ولَا غیرہ مما یشترط فی حج الفرض، وعمرۃ الْإسلام إلّا أھلیۃ النائب بالْإسلام والعقل والتمیز، والنیۃ عنہ فی الْإحرام إن أمرہ بالحج، وإلّا فجعل ثوابہ لہ بعد الأداء، إذ بدون الأمر بہ، یقع الحج عن الفاعل بالْإتفاق، فھو لیس حاجًّا عنہ، بل ھو جاعل ثواب حجہ لہ ۔۔۔إلخ۔ (غنیۃ الناسک فی بغیۃ المناسک، باب الحج عن الغیر ص:۳۲۰ طبع إدارۃ القرآن)۔
  2. (۲) ولو أحج عنہ إمرأۃً أو عبدًا أو أمَۃ بإذن السیّد جاز ویکرہ، ھٰکذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۷، کتاب الحج، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔