بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

بیوی‌کی‌طرف‌سے‌حجِ‌بدل

سوال:۔

میری امی کو حج کا بڑا ارمان تھا، (اللہ انہیں جنت نصیب کرے)، اب اس سال میرا ارادہ حج کرنے کا ہے ان شاء اللہ، تو کیا میں یہ نیت کرلوں کہ اس کا ثواب میرے ساتھ ساتھ میری امی کو بھی پہنچے؟ اس کے لئے کیا نیت کروں؟ نیز میرے ساتھ ابو جائیں گے جنھوں نے پہلے ہی سے حج کیا ہوا ہے تو کیا وہ حجِ بدل کی نیت (امی کے لئے) کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

آپ اپنی طرف سے حج کریں اور ان کی طرف سے عمرہ کردیں، آپ کے والد صاحب ان کی طرف سے حجِ بدل کردیں تو ان کی طرف سے حج ہوجائے گا۔(۱)

  1. (۱) ومن مات وعلیہ فرض الحج ولم یوص بہ، لم یلزم الوارث ان یحج عنہ، وإن أحب أن یحج عنہ حِجَّ، وأرجو أن یجزیہ إن شاء اللہ تعالٰی۔ (فتاویٰ تاتارخانیۃ، کتاب المناسک ج:۲ ص:۵۶۴ طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔ فلا یجوز حج الغیر عنہ بغیر أمرہ إلّا الوارث یحج عن مورثہ بغیر أمرہ فإنہ یجزیہ۔ (فتاویٰ عالمگیری، باب الحج عن الغیر ج:۱ ص:۲۵۷)۔